دوسرے کے بل پر اقدام
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷
دوسرے کے بل پر اقدام
ایک شہر کا واقعہ ہے۔ ایک صاحب کو گھر کی ضرورت تھی۔ چھوٹا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے تھے، لیکن بڑا فلیٹ خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہ تھے۔ بینکوں کے شرائط کے مطابق، ان کو ہاؤس لون (house loan) بھی نہیں مل سکتا تھا۔ ان کے ایک تاجر دوست نے کہا کہ تم کسی مہاجن سے مہاجنی سود پر قرض لے لو، میں جلد ہی مہاجن کا پیسہ ادا کر دوں گا۔ مذکورہ صاحب نے مہاجنی سود پر قرض لے کر فلیٹ خرید لیا۔ مہاجنی سود کی شرح بینک کی شرح سے بہت زیادہ تھی۔ قرض لیتے ہی وہ سود کے جال میں پھنس گئے۔ ان کے تاجر دوست نے یہ کہہ کر پیسہ دینے سے انکار کر دیا کہ میرے کاروبار میں گھاٹا ہو گیا ہے، اس لیے اب میں تمھاری مدد نہیں کر سکتا۔ مذکورہ صاحب کے لیے یہ صورتِ حال نا قابل برداشت تھی۔ وہ سخت قسم کے ٹینشن (tension) کا شکار ہو گئے۔ دوسرے کے بل پر اقدام کرنے کا یہ طریقہ ہمارے سماج میں بہت عام ہے۔ عوام و خواص دونوں اس میں مبتلا ہیں۔ مگر اس قسم کا ہر اقدام بلا شبہ ایک مہلک اقدام ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایسے ہر اقدام سے کامل طور پر بچے ۔ وہ اپنے کام کی منصوبہ بندی خود اپنے دستیاب وسائل کی بنیاد پر کرے، وہ دوسروں کے بھروسے پر کبھی کوئی منصوبہ نہ بنائے۔ دوسرے کے بل پر اقدام ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوتا ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں، حتی کہ سپر پاور کا بھی نہیں۔ جو شخص یا جو ادارہ بھی یہ طریقہ اختیار کرے گا، وہ مزید مسائل کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ آپ خود اپنے وسائل کی بنیاد پر کام کریں۔ اگر آپ کے وسائل کم ہوں تو آپ کو اس میں اپنی محنت کا اضافہ کرنا چاہیے۔ کم وسائل والا شخص اگر دوسرے کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوئی اقدام کرے تو یقینی ہے کہ وہ جلد یا بدیر اُس کے برے نتائج کا شکار ہو جائے گا۔ دوسرے کے بھروسے پر اقدام ایک ایسی چھلانگ ہے جو آپ کو گڑھے کے سوا کہیں اور گرانے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues