آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰
آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
ایک صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ میں معاشی مسئلے سے دوچار ہوں اور اپنی آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں۔ مجھے اضافہ رزق کی کوئی دعا بتائیے۔ میں نے کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح، آپ کا مسئلہ بھی آمدنی میں کمی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ خرچ میں زیادتی کا مسئلہ ہے۔ میرا قیاس ہے کہ آپ غیر ضروری طور پر اپنا خرچ بڑھائے ہوئے ہیں۔ اس بنا پر آپ مصنوعی طور پر معاشی مسئلے کا شکار ہو گئے ہیں۔ آپ صرف یہ کیجئے کہ آپ اپنے خرچ کو گھٹائیے، اس کے بعد آپ کی آمدنی اپنے آپ بڑھ جائے گی۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ میرا معاملہ ایسا ہی ہے۔
یہ دیکھا گیا ہے کہ آمدنی خواہ کم ہو یا زیادہ، عام طور پر لوگ معاشی مسئلے کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے خرچ کو انتظامی حد (manageable limit) کے اندر نہیں رکھتے۔ وہ اپنی عادتوں کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے، وہ صرف اپنی آمدنی کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آمدنی بڑھنے کے ساتھ اُن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے اور مالی تنگی کا مسئلہ بدستور باقی رہتا ہے۔ یہ معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف بے شعوری کا معاملہ ہے، وہ معاشی تنگی یا آمدنی کی کمی کا معاملہ نہیں۔ ایسے حالات میں آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے شعور کو بڑھائے، نہ کہ اپنی آمدنی کو بڑھانے کی بے فائدہ کوشش کرتا رہے۔
معاش کے مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے سادگی اور قناعت۔ سادگی آپ کو غیر ضروری خرچ سے بچاتی ہے۔ اور قناعت آپ کو ہر حال میں سکون عطا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ سادگی اور قناعت با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ جس آدمی کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصد ہو، اٗس پر لازم ہے کہ وہ سادگی اور قناعت کا طریقہ اختیار کرے، ورنہ وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کے لیے کام نہ کر سکے گا۔ وہ دل سے چاہے گا کہ میں بامقصد زندگی گزاروں، لیکن عملاً یہ ہوگا کہ وہ بے مقصد زندگی گزارے گا، اور پھر اسی حال میں مر جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues