Al-Risala · November 2009 · page 24

God Arises

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴

کے لئے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب (modern idiom) میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جا سکے۔ ’’کاش اللہ تعالیٰ مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے‘‘ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا:

God Arises

یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اُس وقت پوری طرح واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر دیولا ئبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے: Let God arise, let His enemies be scattered. Let them also that hate Him flee before Him. As smoke is driven away, so drive them away; As wax melteth before the fire, so let the wicked perish at the presence of God (Psalm 68: 1-2)

’’خدا اٹھے، اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں، جس طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انھیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں‘‘۔

یہ میرے لیے ایک انسپریشن (inspiration) تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا الہامی تجربہ تھا جو مسجد کے اندر اذان اور اقامت کے درمیان پیش آیا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہے، تاکہ میں پیدا شدہ جدید علمی مواقع کا جائزہ لوں اور اُن کو الحاد کی تردید اور توحید کے علمی اثبات کے لیے استعمال کروں۔ یہ گویا سیکولر اہل علم کے پیدا کردہ علمی امکانات کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page