اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
طرح سوچ کا دائرہ چند مخصوص علماء تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کسی موضوع پر دوسرے اہل علم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی غور و بحث کے دائرے میں آ جائے گا۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھلیں گے ۔ لوگوں کا ذہنی ارتقاء ہوگا ۔ لوگوں کے اندر تقلید کے بجائے اجتہاد کی صلاحیت ترقی کرے گی ۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ چاہنے لگے گا کہ پچھلے لوگ جو کام کر چکے ہیں، میں اُن سے آگے جاؤں، میں علمی ارتقاء کی مزید منزلیں طے کروں۔
اس معاملے کی ایک مثال مولانا شبلی نعمانی کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نہ صرف یہ کہ ایک اچھے عالم تھے، بلکہ وہ ایک فعال آدمی تھے۔ وہ اظہارِ خیال کی آزادی کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔ وہ جہاں بھی رہتے تھے، وہاں وہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرتے تھے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور کھلے ذہن کے تحت رائے قائم کریں اور دورِ جدید کے لحاظ سے اعلیٰ قابلیت پیدا کریں۔ اس سلسلے میں وہ انگریزی زبان سیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے۔
اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ مولانا شبلی کے قیامِ ندوہ (1913-1905) کے زمانے میں وہاں ایک زندہ علمی ماحول پیدا ہوگیا ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مولانا شبلی نعمانی کے زمانے میں کئی اعلیٰ علمی شخصیتیں پیدا ہوئیں ۔ مثلاً مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953)، مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958)، مولانا عبد الباری ندوی (وفات: 1976)، مولانا عبد الماجد دریا آبادی (وفات: 1977)، وغیرہ۔ تعلیم کے سلسلے میں دو چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں نصاب، اور اساتذہ ۔ کسی تعلیمی ادارے میں بلاشبہ نصاب کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نصاب سے بھی زیادہ اہمیت اساتذہ کی ہے۔ نصاب کی حیثیت عملاً ایک ذریعہ کی ہے۔ تاہم اس ذریعہ کا جو استعمال کرتا ہے، وہ استاذ ہے۔ استاذ اگر لائق اور فعال ہو تو وہ کسی بھی نصاب کو استعمال کر کے طلبا کے اندر مطلوب روح پیدا کر سکتا ہے، اور اگر استاذ لائق اور فعال نہ ہو تو اچھے سے اچھا نصاب بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues