Al-Risala · November 2009 · page 41

When I am speaking, I am not thinking.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱

سوال و جواب سوال عرض یہ ہے کہ ایک بار میں دہلی میں آپ کے پاس آیا تھا۔ اُس وقت آپ نے مجھ کو یہ حدیث سنائی تھی: مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو چپ رہا اور جس نے بولنے سے پہلے سوچا، وہ کامیاب رہا۔ آپ نے میری ڈائری میں لکھوایا تھا کہ اس حدیث کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بنائیں تو آپ کامیاب رہیں گے۔ عرض یہ ہے کہ اس حدیث کے مطابق، زندگی بنانے کا مطلب کیا ہے، براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (جوادالحق مظاہری، ہری دوار)

جواب

اس حدیث میں چپ رہنے کا مطلب کامل معنوں میں چپ رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کم بولنا۔ جو آدمی کم بولے، اس کو بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں—ایک، یہ کہ وہ زیادہ سوچتا ہے۔ کم بولنے کا دوسرا پہلو زیادہ سوچنا ہے۔ جب آدمی بولتا ہے تو اُس وقت وہ سوچ نہیں پاتا۔ اسی لیے کسی نے بالکل درست طور پر کہا ہے:

When I am speaking, I am not thinking.

کم بولنے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات سنے، وہ دوسروں سے سیکھے، وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کم بولنا کوئی سادہ بات نہیں۔ کم بولنا پورے معنوں میں، ایک طریق زندگی ہے۔ جو آدمی کم بولنے کے طریق زندگی کو اختیار کرے، وہ ضرور اعلیٰ کا کامیابی حاصل کرے گا۔

سوال

آپ کی باتیں بہت اچھی ہیں، مگر اس وجہ سے نہیں کہ آپ اعمال کو آخرت کے ساتھ جوڑتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کی افادیت اسی دنیا میں ہے۔ آخرت سے متعلق تمام تر باتیں ظنی ہیں اور وہ صرف ظنی ہی ہو سکتی ہیں۔ آخرت کو قطعیبت کے ساتھ ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page