Al-Risala · December 2009 · page 11

کلمہ توحید

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تا کہ سارہ کو اُن کے بارے میں خبر نہ ہو سکے۔ پھر ابراہیم ، ہاجرہ اور اُن کے بچے اسماعیل کو مکہ میں لے آئے ۔ اُؔس وقت ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم نے اُن دونوں کو مسجد کے اوپرى حصہ میں ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھادیا جہاں زمزم ہے۔ اُس وقت مکہ میں ایک شخص بھی موجود نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیم نے کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کی ایک مشک وہاں رکھ دیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے ۔ ہاجرہ اُن کے پیچھے نکلیں اور کہا کہ اے ابراہیم، ہم کو اس وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں جارہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز ۔ ہاجرہ نے ابراہیم علیہ السلام سے یہ بات کئی بار کہی اور ابراہیم نے ہاجرہ کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ہاجرہ نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ ہاجرہ نے کہا پھر تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا ( اذن لا یُضِیْعُنَا ) ۔ ہاجرہ لوٹ آئیں ۔ ابراہیم جانے لگے۔ یہاں تک کہ جب وہ مقام ثنیہ پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو انہوں نے اپنا رخ ادھر کیا جہاں اب کعبہ ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ: اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کچھ نہیں اگتا، یہاں تک کہ آپ دعا کرتے ہوئے لفظ یشکرو ن تک پہنچے۔

ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلائیں اور مشک میں سے پانی پیتیں ۔ یہاں تک کہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی۔ انھوں نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ پیاس سے بے چین تھا۔ بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر وہ مجبور ہو کر نکلیں ۔ انھوں نے سب سے قریب پہاڑ صفا کو پایا۔ چناں چہ وہ پہاڑ پر چڑھیں اور وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ کوئی شخص نظر آ جائے ۔ وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں ۔ وہ صفا سے اتریں ۔ یہاں تک کہ جب وہ وادی تک پہنچیں تو اپنے گر تہ کا ایک حصہ اٹھایا پھر وہ تھکاوٹ سے چور انسان کی طرح دوڑیں۔ وادی کو پار کر کے وہ مروہ پہاڑ پر آئیں ۔ اُس پر کھڑے ہو کر انہوں نے دیکھا تو کوئی انسان نظر نہ آیا۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page