Al-Risala · December 2009 · page 13

کلمہ توحید

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہو گئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ اُن سے محبت کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ایک لڑکی سے اُن کا نکاح کر دیا۔ ہاجرہ کا انتقال ہو گیا۔ جب اسماعیل کا نکاح ہو چکا تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ انہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے اُن کے بارہ میں پوچھا۔ اُؔس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے اُس سے اُن کے گزر بسر اور حالت کے بارہ میں پوچھا۔ اُؔس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہیں۔ ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں۔ اُس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ انہوں نے کچھ محسوس کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اُؔس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس صورت کا آیا تھا۔ انہوں نے آپ کے بارہ میں پوچھا، میں نے اُن کو بتایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزر کیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انہوں نے تم سے اور کچھ کہا ہے۔ اُؔس نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے مجھ سے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دو۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے۔ انہوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو چھوڑ دوں۔ تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ۔ اسماعیل نے اُس کو طلاق دے دی۔ اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے انہوں نے نکاح کر لیا۔ ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جس قدر اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل کے یہاں آئے تو پھر اُن کو نہیں پایا۔ وہ اسماعیل کی بیوی کے پاس آئے اور اُس سے اسماعیل کے بارہ میں پوچھا۔ اُؔس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ تم لوگ کیسے ہو۔ اُؔس نے کہا کہ ہم لوگ خیریت سے ہیں اور کشادگی کی حالت میں ہیں۔ اُؔس نے اللہ عزّ وجل کی تعریف کی۔ ابراہیم نے کہا کہ تمہارا کھانا کیا ہے۔ اُس نے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page