علامتی ذبیحہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶
(میسوپوٹامیہ) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nemrud) تک بھی اپنی دعوت پہنچائی۔ لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتیٰ کہ آپ جب اتمام حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ آپ کے بھتیجے اور آپ کی اہلیہ۔ حضرت ابراہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طور پر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوں نے پیغمبروں کا استقبال استہزا (یٰس : 30) کے ساتھ کیا۔ حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے ۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چناں چہ حضرت ابراہیم عراق سے نکلے اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ جیسا کہ صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میں طے ہوا۔
علامتی ذبیحہ
اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ حضرت ابراہیم نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر رہے ہیں۔ اس خواب کے مطابق، حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ لیکن یہ ایک تمثیلی خواب تھا، یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خدائی منصوبہ کے مطابق، اپنے بیٹے کو توحید کے مشن کے لیے وقف (dedicate) کر دو، ایک ایسا مشن جو عرب کے بے آب وگیاہ صحرا میں شروع ہونے والا تھا۔
قرآن میں حضرت ابراہیم کے اس خواب کا ذکر سورہ نمبر 37 میں آیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر ابراہیم نے خواب کے بعد جب اپنے بیٹے کو قربان کرنا چاہا تو اس وقت خدا کے فرشتے نے آپ کو بتایا کہ آپ بیٹے کے فدیہ کے طور پر ایک دنبہ ذبح کردیں۔ چناں چہ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues