خاتمہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷
یہ خطرہ زرعی تحقیق کے ادارے کے ڈائریکٹر کے الفاظ میں ’’ذہنی بونا پن‘‘ کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں بظاہر جسمانی اعتبار سے دوسروں کے برابر ہوں گی، مگر ذہنی استعداد کے اعتبار سے ہم دنیا کی دوسری متمدن قوموں سے پست ہو چکے ہوں گے۔
یہ خطرہ جو ہمیں درپیش ہے، اس کی وجہ ڈاکٹر سوامی ناتھن کے الفاظ میں یہ ہے کہ ہماری غذا میں پروٹین کا جزء بہت کم ہوتا ہے، یہاں کی آبادی ایک قسم کے پروٹینی فاقہ میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ پروٹین ایک غذائی جُز ہے جو انسانی جسم کی صحیح نشو نما کے لیے ضروری ہے۔ یہ پروٹین اپنی اعلیٰ ترین شکل میں گوشت سے حاصل ہوتا ہے۔ گوشت کا پروٹین نہ صرف قسم میں اعلیٰ ہوتا ہے، بلکہ وہ انتہائی وافر اور سستی مقدار میں دنیا کے اندر موجود ہے۔
خاتمہ
ہسٹری آف تھات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ افکار کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ ایک قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور دوسرا، بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں لوگوں کو اشیا کی حقیقت معلوم نہ تھی، اس لیے محض قیاس آرائی کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لی گئی۔ اس لیے قبل سائنس دور کو تو ہماتی دور (age of superstition) کہا جاتا ہے۔ مذکورہ اعتراض دراصل اسی قدیم دور کی ایک یادگار ہے۔ یہ اعتراض دراصل توہماتی افکار کی کنڈیشننگ کے تحت پیدا ہوا، جو روایتی طور پر اب تک چلا جارہا ہے۔
قدیم توہماتی دور میں بہت سے ایسے خیالات رائج ہو گئے جو حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد تھے۔ سائنسی دور آنے کے بعد ان خیالات کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کے بارے میں قدیم جیوسنٹرک (geocentric) تھیوری ختم ہوگئی اور اس کی جگہ ہیلیوسنٹرک (heliocentric) تھیوری آگئی۔ اسی طرح ماڈرن کیمسٹری کے ظہور کے بعد قدیم الکیمی ختم ہوگئی۔ اسی طرح ماڈرن ایسٹرانمی کے ظہور کے بعد قدیم اسٹرالوجی (astrology) کا خاتمہ ہو گیا، وغیرہ۔ مذکورہ اعتراض بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے، اور اب یقینی طور پر اس کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues