Al-Risala · March 2009 · page 2

حقیقی محبت، اضافی محبت

الرسالہ، مارچ ۲۰۰۹، صفحہ ۲

حقیقی محبت، اضافی محبت

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان کو سب سے زیادہ محبت اللہ سے ہوتی ہے (والذين امنوا أشد حباً لله۔ البقرہ: 165) خدا سے محبت کا مطلب کیا ہے۔ علماء عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ خدا سے محبت کا مطلب خدا کی اطاعت ہے۔ اس کے مقابلے میں، صوفیا کا یہ کہنا ہے کہ خدا سے محبت کا مطلب خدا سے عشق ہے۔ مگر یہ دونوں باتیں قرآن کی آیت کی صحیح تشریح نہیں۔ محبت دراصل قلبی تعلق کا نام ہے۔ گہری قلبی کیفیت کے ساتھ جب آپ کو کسی سے غیرمعمولی تعلق قائم ہو جائے تو اسی کا نام محبت ہے۔ اس پہلو سے، صرف خدائے واحد اس کا مستحق ہے کہ ایک بندہ اُس سے شدید محبت کرے۔ خدا کی نسبت سے محبت، خدا کی نعمتوں کے اعلیٰ اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ اس قسم کی محبت کا حق بلاشبہ صرف خدا کو ہے، اُس کے سوا کسی اور کو نہیں۔ محبت کی دو قسمیں ہیں— حقیقی محبت (real love)، اور اضافی محبت (relative love)۔ دنیا کی زندگی میں مختلف اسباب سے ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے، حتٰی کہ ایک گھر اور ایک حیوان سے بھی۔ لیکن اس قسم کی محبتیں انسان کے مرتے ہی فوراً ختم ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اس قسم کی تمام محبتیں اضافی محبتیں ہیں۔ وہ وقتی اسباب سے پیدا ہوتی ہیں اور اسباب کے ختم ہوتے ہی وہ اچانک ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں، خدا کی محبت حقیقی محبت ہے۔ وہ حقیقی اسباب سے پیدا ہوتی ہے اور جب وہ کسی انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ ابدی طور پر باقی رہتی ہے، موت اُس کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ خدا نے انسان کو وجود بخشا، خدا نے انسان کو اس دنیا میں رہنے کے لیے ایک بے حد موافق زمین دی، خدا نے انسان کے لیے اعلیٰ درجے کا لائف سپورٹ سسٹم قائم کیا، اس طرح کی ان گنت چیزیں جو اس دنیا میں انسان کو ملی ہوئی ہیں، ان کو دینے والا صرف خدا ہے، کوئی بھی دوسرا شخص ان عطیات میں خدا کا شریک نہیں۔ یہ احساس جب کامل اعتراف میں ڈھل جائے تو اسی کا نام محبتِ خداوندی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2009 All issues

Printed page