Al-Risala · April 2010 · page 21

گرہن ایک خدائی معجزہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدہا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتا ہے، اس وقت چاند گرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔

اس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دوربین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار 1609 میں دوربین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دوربین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کئے گئے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے، یہ تمام تر ایک فلکیاتی مظہر ہے۔ وہ صرف اس لئے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام (celestial bodies) کے درمیان تیسرا جسم آجاتا ہے۔ اس کی بنا پر وہاں ایک آڑ قائم ہو جاتی ہے۔ اسی آڑ کی بنا پر پیش آنے والے واقعہ کا نام گرہن ہے۔

قدیم زمانے میں گرہن صرف ایک توہماتی (superstitious) واقعہ بنا ہوا تھا۔ انیسویں صدی عیسوی میں سائنسی مشاہدہ کے ذریعہ معلوم ہوا کہ یہ سادہ نوعیت کا ایک خلائی واقعہ ہے۔ اس واقعہ میں کوئی پُر اسراریت شامل نہیں۔ گرہن کے موضوع پر موجودہ زمانے میں کثیر تعداد میں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں:

Eclipses of the Sun and Moon (1937) by Sir F.W. Dyson Eclipse Phenomena in Astronomy (1969) by F. Link Eclipses in the Second Millennium BC (1954) by G. Van Bergh گرہن کی تاریخ کا پہلا دور وہ ہے جب کہ اس معاملے میں توہماتی عقائد کا رواج تھا۔ گرہن کا دوسرا دور موجودہ زمانے میں دوربین کی ایجاد (1608) کے بعد شروع ہوا۔ گرہن کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جو اسلام کے ذریعہ انسان کے علم میں آیا، وہ یہ کہ گرہن کا تعلق نہ تو ہمات سے ہے اور نہ وہ صرف ایک مادی نوعیت کا فلکیاتی واقعہ ہے، بلکہ وہ خالقِ کائنات کے باشعور تخلیقی نظام کا ایک حصہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page