دجالیت کیا ہے
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹
عظیم ترین مثال کے ہم معنی ہوگا۔ اسی لیے اُس کی بابت صحیح مسلم میں یہ الفاظ آئے ہیں: ھذا أعظم الناس شهادةً عند ربّ العالمين ۔ یہ عظیم دعوتی واقعہ قیامت سے پہلے پیش آئے گا۔ دجالی فتنة اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں، وہ شیطانی فتنے ہی کا نقطۂ انتہا ہے۔ شیطان ہمیشہ سے یہ کرتا رہا ہے کہ وہ تزئین‘ کے ذریعے لوگوں کو سچائی کے راستے سے ہٹاتا ہے۔ شیطان کا یہ کام ہمیشہ سے جاری ہے۔ سائنسی دور میں یہ شیطانی تزئین، علمی تزئین کے روپ میں ظاہر ہوگی۔ اسی لیے اس کو دجالیت کہا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق، شیطان کا کام تزئین (الحجر: 39) کرنا ہے۔ تزئین کے لیے ہمیشہ اُس کے موافق وسائل درکار ہوتے ہیں۔ پچھلے زمانوں میں یہ موافق وسائل زیادہ نہیں ہوتے تھے۔ موجودہ زمانے میں یہ موافق وسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں، علمی اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی۔ دجّال دراصل وہ شیطانِ اکبر ہے جو جدید وسائل کے ذریعے، زیادہ پرزور انداز میں باطل کی تزئین کرے گا۔ پھر امتِ محمدی کا ایک شخص اٹھے گا جو خدا کی خصوصی مدد سے نظریاتی سطح پر اس کی دجالیت کا خاتمہ کردے گا۔
دجالیت کیا ہے
دجالیت کوئی ایسی برائی نہیں، جو آخری زمانے میں اچانک ظاہر ہوجائے۔ دجالیت دراصل شیطانی اغوا ہی کا زیادہ بڑا درجہ ہے۔ اغوا اور دجل دونوں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قریب المعنی الفاظ ہیں۔ اغوا عام قسم کی دجالی ہے، اور دجالیت زیادہ بڑے قسم کا اغوا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تخلیق کے ابتدائی زمانے ہی میں شیطان نے یہ چیلنج دیا تھا کہ: لأزيننّ لهم في الأرض، ولأغوينّهم أجمعين (الحجر: 39) یعنی میں ضرور اُن کے لیے زمین میں تزئین کروں گا، اور ضرور اُن سب کو بھٹکاؤں گا۔ قرآن کے دوسرے مقام پر اس معاملے کی مزید وضاحت ان الفاظ میں آئی ہے: ولا تجد أكثرهم شاكرين (الأعراف: 17) یعنی تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکرگز ارنہ پائے گا: And you will not find most of them grateful (7:17)