اسمِ اعظم کے ساتھ دعا
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳
اسمِ اعظم کے ساتھ دعا
سب سے بڑی دعا وہ ہے جو ایک حقیقی پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کے حوالے سے کی جائے، موت اسی قسم کا ایک بہت بڑا پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ اگر کوئی شخص اس پوائنٹ آف ریفرنس کو دریافت کرلے تو وہ ایک ایسی دعا کر سکتا ہے جس کو حدیث میں اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ موت کیا ہے۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ وہ موجودہ زمین پر رہائش کا خاتمہ ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کے لیے وہ سب کچھ مہیا کیا گیا ہے جس کی اسے بحیثیت انسان ضرورت ہے۔ موت جب آتی ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اچانک مرنے والے کو موجودہ سیارۂ ارض سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن سیارۂ ارض پر جو کچھ انسان کو ملا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کے اپنے کسب (earning) کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر اللہ کے یک طرفہ عطیہ کا نتیجہ ہے۔ آدمی ملی ہوئی چیزوں کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیتا رہتا ہے، اس لئے وہ اس حقیقت سے بے خبر رہتا ہے۔ اگر آدمی دنیا میں ملی ہوئی چیزوں کو عطیۂ الہی کی حیثیت سے دریافت کر لے تو یہ دریافت اس کے لئے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گی۔
جس انسان کو شعوری طور پر اس حقیقت کی دریافت ہو جائے، وہ پکار اٹھے گا کہ خدایا، موت سے پہلے کی زندگی میں بھی میں کامل طور پر عاجز تھا، لیکن تو نے اپنی رحمت سے بلا استحقاق مجھے یک طرفہ طور پر تمام چیزیں دے دیں، موت کے بعد کی زندگی میں بھی دوبارہ میں اپنے آپ کو کامل طور پر عجز کی حالت میں پاؤں گا۔ خدایا، جس طرح تو نے موت سے پہلے کی زندگی میں میرے عجز کی کامل تلافی فرمائی، اسی طرح تو موت کے بعد کی زندگی میں بھی میرے عجز کی کامل تلافی فرما، مجھے وہ تمام چیزیں مزید اضافہ کے ساتھ دے جو تو نے موت سے پہلے کی زندگی میں مجھے عطا کی تھیں۔ اس پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ نجات آخرت کی دعا کرنا، بلاشبہ اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے، جس کی قبولیت کی بشارت دی گئی ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس اسمِ اعظم کے حوالے سے دعا کرنے کی توفیق پائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues