Al-Risala · June 2010 · page 33

صبر کا کرشمہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۳۳

صبر کا کرشمہ

گل برگا (کرناٹک) کے ایک صاحب نے اپنے ایک خط (10 فروری 2010) میں اپنا ایک واقعہ لکھا ہے۔ یہ واقعہ انھیں کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’’ایک غلط پروپیگنڈے کی بناپر مجھ کو تین ماہ سروس سے معطل ہونا پڑا۔ لیکن اس دوران نہایت صبر واستقلال کے ساتھ غیر ضروری باتوں سے اعراض کرتے ہوئے بلا طلب حجت یک طرفہ طور پر ’’میں غلطی پر تھا‘‘ کے مشورے پر رجوع بہ کار ہوا۔ اس کے بعد ایسا معلوم ہوا کہ مجھ کو سروس سے برخاست کرنے کے لیے جو طریقے اپنائے گئے تھے، وہ بالکل ناکام ثابت ہوئے، اور میں پہلے سے زیادہ مضبوط طور پر اپنی جگہ واپس آگیا۔ یہ بلاشبہہ الرسالہ کی فکری پالیسی کا نتیجہ تھا۔ ‘‘ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نزاعی مسائل کا حل کیا ہے۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ آپ صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے خاموش ہو جائیں اور صرف دعاء کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ دیکھیں گے کہ بہت جلد آپ کا مسئلہ نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہو گیا ہے۔ نزاع کے موقع پر جب رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے اندر ضداور انانیت جاگ پڑتی ہے۔ اس طرح مسئلہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آپ خاموشی اختیار کر لیں اور دعاء کریں تو اس کے بعد یہ ہوگا کہ فریق ثانی کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ اس کے بعد وہ معاملے پر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچنے لگے گا، یہاں تک کہ عین ممکن ہے کہ اس کو خود اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور وہ اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان خود ہی معاملے کو ختم کر دے۔

صبر کا طریقہ فرشتے کو آپ کا مددگار بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب آپ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں تو شیطان کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ معاملے کو زیادہ سے زیادہ بگاڑے، یہاں تک کہ آپ کو تباہی کے کنارے پہنچادے۔ جو آدمی اس راز کو سمجھ لے، وہ کبھی ناکامی سے دو چار نہیں ہوسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page