با اصول زندگی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴
با اصول زندگی
زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں ایک، با اصول زندگی اور دوسرے، بے اصول زندگی۔ با اصول زندگی یہ ہے کہ آدمی کی زندگی کچھ اصولوں کے تابع ہو، وہ جو کچھ کرے، اپنے مقرر اصول کے تحت کرے، وہ کسی حال میں اپنے اصول سے انحراف نہ کرے، اس کی زندگی معلوم اصولوں کی بنیاد پر گزر رہی ہو۔ ایسا انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل بن جاتا ہے۔ جو لوگ قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہوں، وہی دراصل انسان کہے جانے کے مستحق ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کی زندگی کا کوئی سوچا سمجھا اصول نہ ہو۔ وہ موقع کے لحاظ سے کبھی ایک طریقے کو اختیار کریں اور کبھی دوسرے طریقے کو۔ ان کا ایک ہی اصول ہو اور وہ ہے ذاتی فائدہ۔ ان کی زندگی اپنے دنیوی فوائد کی بنیاد پر چل رہی ہو، نہ کہ کسی بالا تر اصول کی بنیاد پر۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو مذہبی زبان میں منافق کہا جاتا ہے، اور سیکولرز زبان میں ان کو ابن الوقت (opportunist) کا نام دیا جاتا ہے۔
با اصول زندگی دوسرے لفظوں میں، با کردار زندگی ہے۔ اس کے برعکس، بے اصول زندگی کا دوسرا نام بے کردار زندگی ہے۔ با کردار انسان وہ ہے جس کی زندگی معلوم اصولوں کے تحت گزر رہی ہو۔ اس کے مقابلے میں، بے کردار انسان وہ ہے جس کی زندگی معلوم یا متعین اصولوں کی پابند نہ ہو۔ با کردار انسان اصول (principles) اور اقدار (values) کے بارے میں نہایت حساس ہوتا ہے۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے مقرر اصول سے ادنی انحراف کرے۔ اس کے مقابلے میں، بے کردار آدمی وہ ہے جس کا کوئی مقرر اصول نہ ہو۔ وہ اپنے مفاد اور اپنی خواہشات کے تحت زندگی گزارے۔ با اصول زندگی ہی اس دنیا میں انسانی زندگی ہے۔ بے اصول زندگی ایک قسم کی حیوانی زندگی ہے۔ دونوں قسم کے انسانوں میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ اُن میں سے ایک ابدی جنت کا انعام پاتا ہے اور دوسرا ابدی جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2010 All issues