Al-Risala · August 2010 · page 6

تزکیہ کی حقیقت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۶

تزکیہ کی حقیقت

پیغمبر کے فرائض میں سے ایک فریضہ وہ ہے جس کے لیے قرآن میں تزکیہ (البقرہ: 129) کا لفظ آیا ہے۔ ہر مومن کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ اپنا تزکیہ کرے۔ تزکیہ کے بغیر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں ربانی شخصیت (آل عمران: 79) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ہی کسی انسان کے لیے جنت میں داخلے کا ذریعہ بنے گا (طٰهٰ: 76)۔

تزکیہ کا لفظی مطلب نمو یا افزائش (to flourish) ہے۔ اس نمو کی ایک مادی مثال درخت ہے۔ درخت ایک بیج کی نمو پذیری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایک بیج موافق ماحول پا کر بڑھنا شروع ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک ہرا بھرا درخت بن جاتا ہے۔ یہی معاملہ انسانی تزکیہ کا بھی ہے۔ اس اعتبار سے، تزکیہ کوروحانی ارتقا یا ذہنی ارتقا (intellectual development) بھی کہا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی امکانات (potentials) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان امکانات کو واقعہ (actual) بنانے کا نام تزکیہ ہے۔

آدمی جب ایمان لاتا ہے تو وہ دراصل تزکیہ کے سفر کا آغاز کرتا ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ ایک مُزکّی انسان، یا ذہنی اور روحانی اعتبار سے ایک ارتقا یافتہ شخصیت (developed personality) بن جاتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔

تزکیہ کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں۔ تزکیہ کا ذریعہ مراقبہ (meditation) نہیں ہے، بلکہ تزکیہ کا ذریعہ غوروفکر (contemplation) ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنا اور اُن سے معرفت کا ذہنی یا فکری رزق حاصل کرنا، یہی وہ عمل (process) ہے جس سے آدمی کے اندر مزکّی شخصیت بنتی ہے۔ تزکیہ ایک معلوم حقیقت ہے، نہ کہ کوئی مجہول حقیقت۔ یہ تزکیہ انسان کی اپنی کوشش سے حاصل ہوتا ہے، کسی مفروضہ بزرگ کے پُرسرار فیض سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page