طالب اور مطلوب
الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
طالب اور مطلوب
انسان ایک انتہائی با معنی وجود ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے وجود کی اس اعلیٰ معنویت کو دریافت کر سکے تو یہ دریافت اس کے لیے ایک عظیم دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جائے گی۔ وہ کہہ سکے گا کہ خدایا، تو نے مجھے ایک با معنی وجود کے طور پر پیدا کیا اور پھر اس وجود کو ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا جس کو ظالموں نے بے معنی بنا دیا تھا۔ خدایا، تو اپنی رحمت سے اس با معنی وجود کو ایک زیادہ بہتر اور با معنی دنیا بھی عطا فرما۔ یہ دعا بلا شبہ اسمِ اعظم کی دعا ہے۔ لیکن یہ دعا صرف اُس دل سے نکلے گی جس کو دریافت والی معرفت حاصل ہوئی ہو۔ فانی بدایونی (وفات: 1940) کو وراثت میں ایک بڑا گھر ملا تھا۔ لیکن اس بڑے گھر نے ان کو سکون نہیں دیا۔ چناں چہ انھوں نے اپنی ایک نظم میں اس معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب در و دیوار دے، اب انھیں ویرانی دے فانی بدایونی صرف اپنے گھر کو جانتے تھے۔ اگر وہ اِس تخلیقی معجزہ کو دریافت کرتے جس کا نام فانی بدایونی تھا، تو وہ برعکس طور پر یہ کہتے:
اپنے دیوانے پہ اتمامِ کرم کر، یا رب جب دیا ذوقِ طلب، پھر اسے مطلوب بھی دے فانی بدایونی کو ”امام یاسیات“ کہا جاتا ہے۔ زیادہ بہتر تھا کہ فانی امامِ دریافت ہوتے، پھر وہ اپنی حقیقت کو جانتے۔ وہ جانتے کہ یہ معاملہ طالب کا اپنے مطلوب سے محرومی کا معاملہ ہے۔ پھر وہ طالب بن کر اپنے مطلوب کے لیے خدا سے درخواست کرتے۔ وہ کہتے کہ خدایا، تو اس تڑپتی ہوئی مچھلی کو دوبارہ پانی کی تلاش ہے۔ مگر اس کو یہ پانی خود اپنے بل پر نہیں مل سکتا۔ خدایا، تو اس تڑپتی ہوئی مچھلی کو اپنی خصوصی رحمت سے اس کے مطلوب پانی تک پہنچادے۔ بیش تر انسانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف ردِ عمل کے تحت سوچنا جانتے ہیں، ردِ عمل سے اوپر اٹھ کر سوچنا ان کو نہیں آتا۔ مگر تمام انسانی کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی اپنے حالات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ اسی طرزِ فکر کا نام صابرانہ سوچ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues