Al-Risala · August 2010 · page 18

عارفانہ دعا

الرسالہ، اگست ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸

عارفانہ دعا

دعا کی اعلیٰ قسم وہ ہے جب کہ ایک بندۂ مومن کو ایک عارفانہ دریافت ہو اور اس دریافت کے بعد اس کی زبان سے دعا کے تخلیقی (creative) کلمات نکلیں۔ یہ دعا کی سب سے زیادہ اعلیٰ قسم ہے۔ اس قسم کی دعا اُن لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو تدبر اور غور و فکر میں زندگی گزارتے ہیں، جو مسلسل طور پر معرفت کے روحانی تجربات میں جیتے ہیں۔

مثال کے طور پر ایک بندۂ مومن نے گہرائی کے ساتھ سوچا اور پھر اس پر منکشف ہوا کہ ظاہری اختیار کے باوجو وہ کامل طور پر عاجز ہے۔ پھر اُس نے دریافت کیا کہ اس کے کمال عجز کے باجود اللہ نے اس کو موجودہ دنیا میں زندگی کا تمام سامان عطا کر دیا۔

اس طرح گویا اللہ نے اس کے عجز کی تلافی فرمائی۔ اللہ اس کے اور اس کے عجز کے درمیان حائل ہو گیا۔ اس طرح اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر وہ دنیا کی زندگی میں اپنے عجز (helplessness) کے برے انجام سے بچار ہا۔

ایک بندۂ مومن کو جب یہ دریافت ہوتی ہے تو اُسی کے ساتھ وہ ایک اور چیز کی دریافت کرتا ہے، وہ یہ کہ آخرت میں دوبارہ اپنی بے عملی کی بنا پر وہ اِسی قسم کے شدید تر مسئلے سے دوچار ہوگا۔ اًس کو محسوس ہوگا کہ میری بے عملی یقیناً وہاں مجھے محروموں کی فہرست میں ڈال دے گی۔ یہ سوچ کر وہ تڑپ اٹھے اور اس کی زبان پر یہ کلمات جاری ہو گئے کہ خدایا، دنیا کی زندگی میں تو میرے اور میرے عجز کے درمیان حائل ہو گیا اور اس طرح مجھ کو میرے عجز کے برے انجام سے بچا لیا۔ اسی طرح تو آخرت میں میرے اور میری بے عملی کے درمیان حائل ہو جا اور آخرت میں دوبارہ تو مجھ کو میری بے عملی کے برے انجام سے بچالے۔ یہ دعا ایک تخلیقی دعا ہے اور وہ گہری دریافت کے بعد ایک بندۂ مومن کی زبان سے نکلتی ہے۔ یہی وہ عارفانہ دعا ہے جس کے اور قبولیت کے درمیان کوئی فاصلہ حائل نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2010 All issues

Printed page