اللہ کے منتخب بندے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲
اللہ کے منتخب بندے
تخلیق آدم کے وقت ابلیس نے جب آدم کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا، اُس وقت ابلیس نے جو کچھ کہا، اُن میں سے ایک یہ تھا: فبعزتك لأغوينهم أجمعين۔ إلا عبادك المخلصين (ص: 83-82) یعنی تیری عزت کی قسم، میں اُن سب کو گمراہ کر کے رہوں گا، بجز تیرے اُن بندوں کے جنھیں تو نے خالص کر لیا ہے۔
”مخلص“ کا لفظ قرآن میں 9 بار آیا ہے۔ یہ مخلص اور منتخب بندے کون ہیں۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ ابلیس کی ہر تزئین کو گہرائی کے ساتھ سمجھ سکے۔ ابلیس جب بھی کوئی وسوسہ اس کے ذہن میں ڈالے تو وہ اپنے بیدار ذہن کی بنا پر فوراً ہی اس کا تجزیہ کر لے اور اس بنا پر وہ ابلیس کے فتنے کا شکار ہونے سے بچ جائے۔
اس معاملے کی ایک مثال سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ اس کے مطابق، ایک مصری عورت نے جب حضرت یوسف کو بہکانا چاہا، تو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو اس سے بچالیا: معاذ الله، إنّه ربي أحسن مثواي (یوسف: 23)۔ کسی انسان کے اندر اس قسم کی شعوری بیداری لانے کا ذریعہ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، وہ اپنا محاسبہ کرتا رہے، وہ قول و عمل سے پہلے اس کے بارے میں غور کرے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ مسلسل طور پر اللہ سے دعا کرتا رہے، وہ اپنے معاملے کو اللہ کے حوالے کر دے۔
جو شخص اس طرح اپنی سوچ کو بیدار رکھے، وہ فرشتوں کا ہم نشیں بن جاتا ہے۔ اس کو خدا کا فیضان (inspiration) ملنے لگتا ہے، اس کے اندر مسلسل طور پر ذہنی ارتقا کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ اللہ کی توفیق سے وہ اتنا زیادہ باشعور ہو جاتا ہے کہ فرشتے کی آواز اور شیطان کی آواز کو ممیز کر کے پہچان سکے۔ ایسا آدمی کبھی شیطان کی تزئین کا شکار نہیں ہوتا، اور اگر کبھی وقتی طور پر وہ اس سے متاثر ہو جائے تو بہت جلد وہ اس کو سمجھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو اس کا شکار بننے سے بچا لیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues