Al-Risala · September 2010 · page 39

ایک عمومی مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

سوال و جواب سوال 2003 میں جب عراق اور امریکہ کے درمیان تنازع پیدا ہوا، اُس وقت آپ نے عراق کے سابق صدر صدام حسین (وفات : 2006) کے نام ایک مفصل خط لکھا تھا، جو الرسالہ، جون 2003 میں ”صدام حسین کے لیے انتخاب“ کے عنوان سے چھپا تھا۔ اس خط میں آپ نے دوسری باتوں کے علاوہ، صدام حسین کو وقتی طور پر دست برداری کا طریقہ اپنانے کی تلقین کی تھی۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن اور سیرت میں اس معاملے کی کوئی مثال موجود ہے (خطیب اسرار الحسن عمری، تمل ناڈو) جواب قرآن کی سورہ نمبر 27 میں ملکہ سبا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ حضرت سلیمان نے ملکہ سبا سے سیاسی دست برداری کا مطالبہ کیا۔ ملکہ سبا نے اس مطالبے کو مان لیا۔ کیوں کہ مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں ذلت اور فساد کا اندیشہ (النمل : 37) تھا، جب کہ مطالبہ ماننے کی صورت میں قوم سبا کے تمام تجارتی مفادات بدستور محفوظ رہتے تھے۔ ملکہ سبا کی اس روش کو قرآن میں ایک مثبت روش کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ گویا کہ اس روش کو قرآن کی کھلی ہوئی تائید حاصل ہے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ کسی وقت دست برداری سے اگر ایک بڑا فائدہ ملتا ہو تو اس دست برداری کو قبول کر لینا چاہئے، کیوں کہ وہ حضرت عمر کے الفاظ میں، دو شر میں سے بہتر شر (خیر الشرین) کے انتخاب کے ہم معنی ہے۔ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے اس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔ مثلاً آپ نے مکہ میں توحید کی دعوت شروع کی تو وہاں کے سرداروں کی طرف سے آپ کے مشن کی سخت مخالفت کی گئی۔ جو لوگ آپ پر ایمان لاتے، اُن کو طرح طرح ستایا جاتا۔ اُس وقت آپ نے 5 نبوی میں اہل ایمان کو مشورہ دیا کہ وہ مکہ چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش (Abyssinia) چلے جائیں۔ چناں چہ مجموعی طور پر 119 اہل ایمان مکہ سے حبش چلے گئے۔ اُس وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ مکہ ہمارا وطن ہے، اس لیے ہم یہاں رہیں گے اور ہر قیمت پر اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2010 All issues

Printed page