تسبیحِ خداوندی
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳
تسبیحِ خداوندی
قرآن میں بار بار یہ تعلیم دی گئی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کی تسبیح کرے۔ اس کے لیے دوسرے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً تحمید، تمجید، تقدیس، وغیرہ۔ ان سب کا خلاصہ ایک ہے، اور وہ ہے اعتراف (acknowledgement) انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے، اسی کو اللہ کی نسبت سے تسبیح وتحمید کہا گیا ہے۔ تسبیح و تحمید کے الفاظ دراصل اعتراف ہی کی منزہ تعبیریں ہیں۔ پھر ان سب کا خلاصہ صرف ایک ہے، اور وہ گلوری فکیشن (glorification) ہے، یعنی اللہ کی عظمت وکبریائی کا بندے کی زبان سے اظہار۔
خدا اور بندے کے درمیان جو نسبت ہے، وہ دینے والے اور پانے والے کی نسبت ہے۔ بندے کے پاس اللہ کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔ واحد چیز جس کو ایک بندہ اپنے رب کے سامنے پیش کر سکتا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو اس کی حیثیت واقعی کے ساتھ دریافت کرے۔ اسی دریافت کا نام معرفت (realization) ہے۔ جب کوئی بندہ جہاد فی اللہ کرتا ہے، یعنی اللہ کے معاملے میں انتہائی حد تک غور وفکر، اُس وقت اللہ کی توفیق سے اُس پر حقیقتِ خداوندی کا انکشاف ہوتا ہے۔ وہ کامل یقین کے درجے میں اللہ کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اس کے بعد اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال آ جاتا ہے۔ وہ اندرونی طوفان کے ذریعے اللہ کا اعلیٰ اعتراف کرنے والے الفاظ بولنے لگتا ہے۔ یہ گویا معرفتِ داخلی کا خارجی الفاظ میں ڈھل جانا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں تسبیح وتحمید جیسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کسی انسان کا اس طرح اللہ کو دریافت کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ یہ مخلوق کا اپنے خالق کو دریافت کرنا ہے، یہ طالب کا اپنے مطلوب کو دریافت کر لینا ہے، یہ عاجزِ مطلق کا قادرِ مطلق کو دریافت کر لینا ہے۔ اس دریافت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ایک انسان اپنے رب کو اس کی حیثیت واقعی کے ساتھ دریافت کر لیتا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ دیکھے بغیر اللہ کو دیکھے، وہ دوری کے باوجود اللہ کی قربت کا تجربہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues