Al-Risala · February 2010 · page 2

نماز کلچر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲

نماز کلچر

قرآن کی سورہ نمبر 74 میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں اہلِ جہنم سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں کو کس چیز نے جہنم میں ڈالا، وہ کہیں گے کہ ہم نماز ادا کرنے والوں میں سے نہ تھے: قالوا لم تك من المصلّین (المدثر : 43) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معروف معنوں میں وہ پانچ وقت کی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ ایسا سمجھنا نماز کی تصغیر ہے۔ اس قول کا مطلب دراصل یہ ہے کہ ہم آداب نماز کی پیروی کرنے والے نہ تھے، ہم نے دنیا میں نماز کلچر کو اختیار نہیں کیا تھا۔ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کلچر کیا ہے۔ نماز کلچر سے مراد ہے قلب خاشع کے ساتھ زندگی گزارنا (المؤمنون: 2)، وقت کی پابندی (النساء: 103)، فحشاء اور منکر سے رکنا (العنکبوت: 45)، اجتماعی زندگی گزارنا (البقرۃ: 43)، صابرانہ مزاج کے ساتھ دنیا میں رہنا (البقرۃ: 153)، قربانی کی اسپرٹ کا حامل ہونا (الکوثر: 2)، سہوکی نفسیات سے بچنا (الماعون: 5)، یاد الہی میں جینا (طہ: 14)، اپنے معاملات کا نگراں بن جانا (المعارج: 34)، مستقل مزاج ہونا (المعارج: 23)، پاکیزگی کے ساتھ رہنا (المائدہ: 6)، مرکز رُخی زندگی گزارنا (البقرۃ: 143)، وغیرہ۔

اسی طرح حدیث کے مطابق کئی چیزیں ہیں جو نماز کے جز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً نماز کے آخر میں سلام پھیرنا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصلی کے دل میں دوسروں کے لیے امن اور سلامتی کا جذبہ ہو۔ یہ تمام چیزیں معنوی اعتبار سے بلاشبہ اجزاء صلاۃ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے مجموعے کو آداب نماز یا نماز کلچر کہا جاسکتا ہے۔

حقیقی نماز وہ ہے جو مصلی کے اندر ان تمام صفات کو پیدا کرے۔ جو آدمی اس طرح نماز ادا کرے کہ یہ تمام چیزیں اس کی زندگی کا جز بن جائیں، وہی حقیقی معنی میں مصلی ہے، اور ایسے ہی مصلی آخرب میں خدا کی ابدی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page