Al-Risala · November 2010 · page 37

اپنی ذات کی توسیع

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷

اپنی ذات کی توسیع

ہر انسان سب سے زیادہ فکر مند اس بات کے لیے رہتا ہے کہ اس کا بیٹا زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنے بیٹے کو اپنی ذات کی توسیع (expansion) سمجھتا ہے۔ وہ بیٹے کی ترقی میں اپنے تشته تکمیل خواب (unfulfilled dream) کو پورا ہوتا ہوا دیکھتا ہے، وہ بیٹے کی بڑائی کو خود اپنی بڑائی کے ہم معنی سمجھتا ہے۔ یہ صرف بیٹے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہی معاملہ دوسری تمام چیزوں کا بھی ہے۔ لوگ پر جوش طور پر اپنے اکابر (bigs) کی بڑائی بیان کرتے ہیں، کیوں کہ اکابر کی بڑائی میں اُنھیں اپنی بڑائی دکھائی دیتی ہے۔ لوگ اپنی قومی تاریخ کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ اس کا سبب بھی یہی ہے کہ اُنھیں اپنی قومی عظمت میں خود اپنی عظمت (glory) کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ لوگ اپنی فیملی کے عیب کو چھپاتے ہیں اور اس کی خوبی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، کیوں کہ انھیں اپنی فیملی کی بڑائی میں خود اپنی بڑائی دکھائی دیتی ہے، وغیرہ۔

یہ مزاج عین وہی چیز ہے جس کو شرک خفی کہا جاتا ہے۔ دین میں سب سے بری چیز شرک ہے، یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی اور کو شریک کرنا۔ مثلاً کسی کو اللہ کا بیٹا سمجھنا، یہ اللہ کی ذات میں شرک کرنا ہے۔ اسی طرح کسی کو ذاتی اختیار کا مالک سمجھنا، یہ اللہ کی صفات میں شرک کرنا ہے۔ یہ دونوں چیزیں یکساں طور پر نا قابل معافی جرم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

شرک خفی کی ایک قسم وہ ہے جب کہ اللہ کے سوا کسی اور کو مستقل حیثیت سے بڑا سمجھ لیا جائے اور اس سے گہرا جذباتی تعلق قائم کر لیا جائے ۔ اس کی بڑائی بیان کر کے آدمی خوش ہو اور اس کے خلاف تنقید سن کر وہ ناراض ہو جائے۔

کسی غیر خدا کے ساتھ اس قسم کی جذباتی وابستگی بلاشبہ شرک خفی کی حیثیت رکھتی ہے، اور شرک خفی اپنی شناعت کے اعتبار سے شرک جلی سے کم نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page