مذہبی آزادی کا دور
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
مذہبی آزادی کا دور
خباب بن الارت ایک مشہور صحابی ہیں۔ 37 ہجری میں 73 سال کی عمر میں کوفہ (عراق) میں ان کا انتقال ہوا۔ مکی دور کے آخر کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کعبہ کے سائے میں ایک کمبل کے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ میں نے آپ سے کہا: اے خدا کے رسول، کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کی امتوں کا یہ حال تھا کہ ان کے اوپر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی جو اُن کے گوشت سے گزر کر ان کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی، مگر یہ چیز ان کو ان کے دین سے پھیرتی نہیں تھی۔ اِسی طرح اُن کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا جو ان کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیتا تھا، مگر یہ چیز ان کو ان کے دین سے پھیرتی نہیں تھی۔ اور اللہ اس امر کو ضرور پورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا خوف نہ ہوگا (ليتمّنّ الله هذا الأمر حتى يسير الراكب من صنعاء إلى حضر موت، ما يخاف إلا الله) صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار۔
اس حدیث میں دراصل تاریخِ دعوت کے دو دور کو بتایا گیا ہے، پہلا دور وہ ہے جب کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی تعذیب (religious persecution) کے حالات میں ہوتا تھا۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ یہ ممکن ہو جائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی آزادی (religious freedom) کے حالات میں انجام دیا جانے لگے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلابی عمل شروع ہوا، وہ دونوں کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انقلابی عمل (revolutionary process) اب اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اب پوری طرح یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام پوری آزادی کے ساتھ کسی روک ٹوک کے بغیر انجام دیا جا سکے، صرف اس واحد شرط کے ساتھ کہ داعی، تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے، وہ کامل طور پر پر امن طریق کار پر قائم رہے۔ یہ تبدیلی اب پیشین گوئی نہیں ہے، بلکہ وہ اب پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues