قیامت قریب آگئی
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴
قیامت قریب آگئی
ایس سی اے آر (Scientific Committee on Antarctic Research) کی ایک سروے رپورٹ میڈیا میں شائع ہوئی ہے۔ تیرہ ملکوں کے ایک سوانٹر نیشنل سائنس دانوں کے گروپ نے یہ سروے کیا ہے۔ اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ برف کے ذخائر (گلیشیر) کے پگھلنے سے سمندروں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے خاتمے تک سطح آب کا یہ اضافہ چار فٹ سے زیادہ ہو جائے گا۔ اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو بہت سے سرحدی علاقے زیر آب ہو جائیں گے ۔ مثلاً مالدیپ، ممبئی، مدراس اور کلکتہ، وغیرہ: Rise in sea levels could be double of estimates — a major study by a group of 100 international scientist has said that sea levels are likely to rise by as much as 1.4 metres (more than 4 feet) by the end of this century. If these projections come true, most low-lying island nations like the Maldive would go under the sea. The New study also significantly enhances the threat to the Indian coasts — and cities like Mumbai, Chennai and Kolkata. (The Times of India, New Delhi, December 2009, p. 1)
حدیث میں قیامت کی جو پیشین گوئیاں بتائی گئی ہیں، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ زمین پر پانی کی سطح بلند ہو جائے گی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سطح آب میں اضافے کا یہ عمل تیزی سے شروع ہو چکا ہے۔ سائنس داں یہ بھی مانتے ہیں کہ اس عمل کو روکنا، انسان کے بس سے باہر ہے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان توبہ اور انابت میں اضافہ کرے۔ فطرت کے اس عمل کو روکنے کے لیے کانفرنسیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
تمام قرائن یہ بتا رہے ہیں کہ موجودہ زمین پر انسان کی تاریخ اب خاتمہ کے قریب پہنچ گئی۔ چناں چہ سائنس داں انسانی نسل کی بقا کے لیے زمین جیسے ایک اور کرہ کی تلاش میں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وسیع خلا میں زمین جیسا کوئی اور کرہ موجود نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues