دعوت، دعا
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۱، صفحہ ۱۷
دعوت، دعا
ہمارے مشن کے ایک صاحب جو دعوتی کام کرتے ہیں، انھوں نے پوچھا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک شخص تک دعوت پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص دعوت کو قبول کرنے والا نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا فارمولا یہ ہے۔ جہاں دعوت کے مواقع ہوں، وہاں دعوہ ورک (Dawah work) ، اور جہاں بظاہر دعوت کے مواقع دکھائی نہ دیں، وہاں دعا ورک (Dua work)
لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کا کوئی ذاتی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے خدا سے دعا کرتے ہیں، لیکن دعوتی کام (Dawah work) کے معاملے میں وہ دعا کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ حالاں کہ دعا کا تعلق جس طرح دوسری تمام چیزوں سے ہے، اُسی طرح اس کا تعلق دعوت سے بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا، دعوت کے لیے لازمی جز کی حیثیت رکھتی ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔
دعا کا تعلق صرف مدعو سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق داعی سے بھی ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ مسلسل طور پر خود اپنے لیے دعا کرتا رہے۔ وہ اللہ سے برابر مؤثر دعوت کی توفیق مانگتا رہے۔ وہ بار بار اس کے لیے دعا کرتا رہے کہ اللہ اس کے لیے ایسے اسباب مہیا کردے جس کے ذریعے وہ دعوت کا کام زیادہ بہتر طور پر انجام دے سکے۔
یہی معاملہ مدعو کا ہے۔ داعی اپنے مدعو کا بہت زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے۔ خیر خواہی کا یہ جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مدعو کے حق میں برابر دعا کرتا رہے۔ دعوت کو قبول کرنا ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی انسان کا دل حق کو قبول کرنے کے لیے کھلتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی کی کنڈیشننگ ٹوٹتی ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص دعوت پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ یہ تمام چیزیں تقاضا کرتی ہیں کہ داعی ہمیشہ اپنے مدعو کے لیے اللہ سے دعا کرتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2011 All issues