Al-Risala · January 2011 · page 14

طبقہ عوام، طبقۂ خواص

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۴

طبقہ عوام، طبقۂ خواص

کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی ۔ وہ تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے عمل کا میدان مسلم عوام ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ آپ لوگ عوام کے درمیان کام کر رہے ہیں اور خواص کے طبقے کو چھوڑے ہوئے ہیں ، حالاں کہ دعوت و تبلیغ کا پہلا نشانہ خواص کا طبقہ ہوتا ہے جس کو قرآن میں ملاء قوم کہا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم عوام میں ارتداد کا خطرہ پھیل گیا تھا ، اس لیے ہم نے مسلم عوام کو اپنے تبلیغی کام کا میدان بنایا۔

میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ارتداد کا خطرہ خود مسلم خواص میں بھی شدت سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس خطرے کی نشان دہی مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (وفات: 1999) نے اپنی کتاب ”ردۃ ولا أبا بکر لھا“ میں کی تھی جو 1959 میں لکھنؤ سے چھپی تھی۔ اس کتاب میں بتایا گیا تھا کہ جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں میں ایک سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے جس کو انھوں نے ذہنی ارتداد کا نام دیا تھا۔ میں نے ان لوگوں کو اپنے یہاں کی چھپی ہوئی کچھ کتابیں دیں۔ میں نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ عوام کے طبقے میں جو کام کر رہے ہیں، اُس کو کرتے رہیے۔

تاہم اسی کے ساتھ آپ یہ کیجیے کہ آپ اپنے بیگ میں ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں رکھیے اور جب بھی کوئی تعلیم یافتہ مسلمان ملے تو اس کو یہ کتابیں بطور ہدیہ پیش کر دیجیے۔ اس طرح آپ اپنی دونوں قسم کی تبلیغی ذمے داریوں کو ادا کرنے لگیں گے، مسلم عوام میں تقریر اور بیان کے ذریعے اور مسلم خواص میں لٹریچر کے ذریعے۔

میں نے کہا کہ یہ کتابیں آپ کے لیے ایک تبلیغی مددگار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مسلم عوام میں براہِ راست اپنے موجودہ نظام کے ذریعے، اور مسلم خواص میں ان کتابوں کی تقسیم کے ذریعے ۔ انھوں نے اس مشورے کی اہمیت کو مانا اور کہا کہ ہم ان شاء اللہ اس مشورے کے مطابق عمل کریں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page