Al-Risala · May 2011 · page 23

معرفت کا اسٹیج

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۳

معرفت کا اسٹیج

ولیم شیکسپیئر (William Shakespeare) ایک انگریز ادیب تھا۔ وہ 1564 میں پیدا ہوا اور 1616 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شاعر اور ڈرامہ نویس کی حیثیت سے معروف ہے۔ شیکسپیئر کا ایک قول ہے: پوری دنیا ایک اسٹیج ہے اور تمام مرد اور عورت اس کے ایکٹر اور ایکٹریس ہیں: All the world's a stage, and all the men and are merely players. اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ایک اسٹوری رائٹر (story writer) جب دنیا کو دیکھتا ہے تو پوری دنیا اس کے دماغ میں ایک بہت بڑی کہانی (story) کے روپ میں ڈھل جاتی ہے۔ ہر طرف اس کو اپنی کہانی کے کردار دکھائی دیتے ہیں۔

یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ ایک مومن جو ہر وقت خالق کے بارے میں سوچتا ہے، وہ جب عالم تخلیق کو دیکھتا ہے تو پورا عالم اس کے لیے معرفت کا عالم بن جاتا ہے۔ اس کو اپنے ہر مشاہدے میں ایمان کی زندہ غذا ملنے لگتی ہے۔ ہر تجربہ (experience) اس کے لیے اس کے یقین میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔

شیکسپیئر کا قول کامیاب اسٹوری رائٹر کو بتاتا ہے۔ یہی معاملہ ایک سچے مومن کا بھی ہے۔ سچا مومن وہ ہے جو غور و فکر کے ذریعے خالق کو دریافت کرے۔ اس کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ اس کے دل و دماغ پر چھا جائے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہوگا کہ اس کو ہر طرف خالق کی جھلک دکھائی دینے لگے گی۔ وہ ہر مشاہدے میں آلاء اللہ (wonders of God) کو دیکھے گا۔ وہ ہر تجربے میں خالق کی کارفرمائی دریافت کرے گا۔ اس کے لیے پوری کائنات ربانی غذاؤں کا وسیع دستر خوان بن جائے گی۔ یہی معرفت ہے اور ایسے ہی انسانوں کو عارف باللہ کہا جاتا ہے۔ معرفت کوئی پر اسرار (mysterious) چیز نہیں۔ معرفت دراصل خدائی بنیادوں پر پیش آنے والے فکری انقلاب کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page