Al-Risala · May 2011 · page 25

بستر مرگ سے

الرسالہ، مئی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۵

بستر مرگ سے

امام ابویوسف (وفات: 798ء) بستر مرگ پر ہیں۔ شدید بیمار ہیں اور اس حالت میں ایک شاگرد عیادت کے لیے جاتا ہے اور جا کر حال پوچھتا ہے، تو حال تو مختصر بتا دیا، پھر فوراً اُس شاگرد سے پوچھتے ہیں کہ بتاؤ حج میں رمی جمرات سوار ہو کر افضل ہے کہ پیدل افضل ہے۔ شاگرد کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ حضرت، پیدل کرنا افضل ہوگا، کیوں کہ پیدل کرنے میں مشقت زیادہ ہے۔ فرمایا کہ نہیں، کہا اچھا پھر سوار ہو کر کرنا افضل ہوگا۔ فرمایا کہ نہیں، بلکہ پہلے دن کی جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرنا افضل ہے۔ کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رمی سوار ہو کر کی تھی، اور باقی دنوں میں پیدل چل کر (رمی) کرنا افضل ہے، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ رمی) پیدل چل کر کی تھی۔ یہ مسئلہ اُس کو بتا دیا۔ فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ سن کر جب میں باہر نکلا، چند قدم چلا تھا تو گھر سے لوگوں کے رونے کی آواز آئی۔ پتہ چلا کہ روح پرواز کر گئی۔ “ ایک مشہور عالم نے علماء کے ایک جلسے میں تقریر کی۔ انھوں نے نہایت جوش کے ساتھ مذکورہ واقعہ بیان کیا، جو اُن کے نزدیک طلب علم کا ثبوت تھا۔ لیکن اگر خالص قرآن اور حدیث اور اسوة صحابہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اُس وقت کہنے والے کو طلب آخرت کی بات کہنا چاہیے تھا۔ جب کوئی شخص بستر مرگ پر ہو تو اُس وقت یہ موقع نہیں رہتا کہ آدمی جزئی مسائل میں اپنا دماغ لگائے۔ اْس وقت اس کو صرف موت یاد آنی چاہیے اور ملنے والوں کو آخرت کی یاد دلانی چاہیے۔

بستر مرگ پر ایک مومن کی کیا کیفیت ہونی چاہیے، اس کا اندازہ صحابیٔ رسول حضرت ابو ہریرہ کے واقعے سے ہوتا ہے۔ مسلم بن بشیر کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ اپنے مرضِ موت میں روئے۔ اُن سے پوچھا گیا کہ کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمھاری اس دنیا کے لیے نہیں روتا، بلکہ میں تو اس لیے روتا ہوں کہ میرا سفر لمبا ہے اور زادِ راہ کم ہے۔ میں نے ایک ایسے ٹیلے پر صبح کی ہے جو جنت یا جہنم کی طرف اتر رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے ان دونوں میں سے کس طرف چلایا جائے گا (أصبحت في صعود مهبطة على جنة ونار، فلا أدري إلى أيهما يسلك)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2011 All issues

Printed page