Al-Risala · June 2011 · page 10

معرفت ایک خدائی عطیہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۰

جدید سائنس کی تاریخ تقریباً پانچ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس دوران سائنس دانوں نے قوانینِ فطرت کے اعتبار سے بے شمار چیزیں دریافت کی ہیں۔ دور بین (telescope) اور خورد بین (microscope) کی ایجاد نے ان دریافتوں کا دائرہ بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اپنی نوعیت کے اعتبار سے، معرفت کا علم ہے۔ اُس نے اہلِ ایمان کے لیے معرفت کا ایک عظیم خزانہ کھول دیا ہے۔

یہاں سائنس سے مراد ٹیکنکل سائنس (technical science) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد پاپلر سائنس (popular science) ہے۔ پاپلر سائنس کے موضوع پر ہر زبان میں کتابیں موجود ہیں۔ یہ کتابیں آسان زبان میں ہوتی ہیں اور ہر آدمی اُن کو پڑھ کر سمجھ سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفت کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ تخلیقِ خداوندی میں غور و فکر کرنا ہے۔ غور و فکر کے لیے ہمیشہ معاون ڈیٹا (supporting data) درکار ہوتا ہے۔ سائنس کے ظہور سے پہلے اس معاملے میں صرف محدود ڈیٹا دستیاب تھا۔ اب سائنس نے طالبِ معرفت کے لیے لامحدود ڈیٹا کی عظیم لائبریری فراہم کر دی ہے۔ اب طالبِ معرفت کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے سفرِ معرفت کو لامناہی طور پر (endlessly) جاری رکھے ۔ وہ ہر لمحہ معرفتِ رب کی غذا حاصل کرتا رہے۔ اس کے اندر روحانی ارتقا کا عمل (process) مسلسل طور پر جاری رہے۔ روحانی ارتقا کا یہ عمل موت سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی ختم نہ ہو۔

معرفت ایک خدائی عطیہ

انسان بے شمار چیزوں کا ضرورت مند ہے۔ مگر ان ضرورت کی چیزوں میں سے کوئی بھی چیز وہ خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ تمام چیزیں خدا کی طرف سے انسان کو یک طرفہ عطیہ کے طور پر ملتی ہیں۔ خدا اگر یہ عطیہ نہ دے تو انسان آخری حد تک تباہ ہو کر رہ جائے۔

انسانی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جہاں سے معرفتِ رب کا آغاز ہوتا ہے۔ کوئی انسان جب اپنی اس حیثیت کو شعوری طور پر دریافت کرتا ہے تو وہ خدائی فیضان کا وعایہ (container)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues

Printed page