تو سم ذریعہ معرفت
الرسالہ، جون ۲۰۱۱، صفحہ ۱۳
قدیم زمانے سے ایک روحانیت پسند طبقہ رہا ہے جو معرفت کا ذریعہ قلب کو بتاتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت، قلبی مراقبہ (meditation) کا طریقہ رائج ہوا۔ مگر یہ نظریہ دینِ خداوندی کی پیداوار نہیں، یہ نظریہ تمام تر وحدتِ وجود (monism) کے تصور کے تحت پیدا ہوا ہے۔ وحدتِ وجود یا ادویت واد کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنے اس عقیدے کے تحت ایک نظریہ وضع کیا ہے۔ اس نظریے کو وہ ان ڈویلنگ گاڈ (in-dwelling god) کے الفاظ میں بیان کرتے ہیں، یعنی دل کے اندر بسنے والا خدا۔ مگر یہ نظریہ تمام تر صرف قیاس (supposition) پر مبنی ہے، اُس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔
قرآن میں قلب (heart) کے حوالے سے فقہ (فہم) کا حوالہ آیا ہے (179 :7)، مگر یہ صرف ادبی استعمال (literary usage) کے طور پر ہے، وہ حقیقی معنی کے اعتبار سے نہیں۔ موجودہ زمانے میں قلب کی تحقیق کرنے والوں نے بتایا ہے کہ قلب گردش خون (blood circulation) کا جو عمل کرتا ہے، اس کے دوران قلب اور دماغ کے مابین کمیونیکیشن (communication) ہوتا ہے۔ مگر اس سے سوچنے والے دل (thinking heart) کا نظریہ ثابت نہیں ہوتا، کیوں کہ دماغ کے ساتھ اس قسم کا کمیونیکیشن جسم کے ہر عضو (organ) کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدید علم تشریح الاعضا (anatomy) کے ذریعے جو چیز ثابت ہوئی ہے، وہ اعضا (organs) کے درمیان صرف کمیونیکیشن ہے، نہ یہ کہ قلب یا کوئی اور عضو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) اس اعتبار سے، دماغ کے ماتحت (subservient to the brain) ہیں، اس میں قلب کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ معرفت کا ذریعہ معرفت کا ذریعہ کسی قسم کے اوراد واشغال نہیں ہیں۔ معرفت ایک زندہ دریافت کا نام ہے۔ معرفت کے حصول کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے، غور وفکر کے ذریعے اپنے اندر وہ صلاحیت پیدا کرنا، جب کہ آدمی مطالعہ اور مشاہدہ اور تجربہ کے دوران معرفت کا رزق پاتا رہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2011 All issues