Al-Risala · July 2011 · page 2

فہم دین میں تقویٰ کی اہمیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲

فہم دین میں تقویٰ کی اہمیت

قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے: يا أيها الذين آمنوا إن تتقوا الله يجعل لكم فرقاناً (29: 8) یعنی اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ سے ڈرو تو اللہ تمھارے لیے ایک فرقان بہم پہنچادے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا صحیح فہم کسی آدمی کو اُس وقت ملتا ہے، جب کہ اس کو اللہ کی معرفت اتنی گہرائی کے ساتھ حاصل ہو کہ وہ اللہ سے ڈرنے لگے، وہ اللہ کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط (mindful) بن جائے۔ جب آپ کسی معاملے کی علمی تشریح کریں تو اُس میں ڈر شامل نہیں ہوتا۔ آپ کی نفسیات یہ نہیں ہوتی کہ اگر میں نے غلط تشریح کر دی تو میں سخت طور پر خدا کی پکڑ میں آ جاؤں گا۔ لیکن جب آپ کے اندر متقیانہ ذہن پیدا ہو جائے تو آپ کا احساس یہ ہوتا ہے کہ میں اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ میں کسی دینی امر کا مفہوم اس طرح بیان کروں جو ادنیٰ درجے میں بھی حق سے ہٹا ہوا ہو:

I can not afford slightest deviation from the right meaning. مذکورہ آیت میں فرقان کا لفظ آیا ہے۔ فرقان کے لفظ میں فرق کا مفہوم مبالغے کے ساتھ شامل ہے۔ اس کا مطلب ہے دو چیزوں کے درمیان فرق (differentiate) کرنے کی گہری صلاحیت (الفصل بین الشيئين)۔ اس صلاحیت کا ایک درجہ یہ ہے کہ آدمی علمی بنیاد پر فرق کرنا جانتا ہو۔ لیکن یہ صرف ایک ابتدائی بنیاد ہے۔ فرق کرنے کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر داخلی بصیرت کے درجے میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔ اسی کا نام فرقان ہے۔ ایسے آدمی کے لیے دین کی صحیح تشریح کرنے کا معاملہ ذاتی نجات کا معاملہ بن جاتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ دین کی ایسی تشریح کرے جو آخر کار اللہ کے سامنے رد (reject) ہو جانے والی ہو۔ جو آدمی دین کی تشریح میں محتاط ہو، وہ لازمی طور پر دینی عمل میں بھی آخری حد تک محتاط ہو جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page