ہدایت کا اصول
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۲
ہدایت کا اصول
قرآن کی سورہ الانفال میں ارشاد ہوا ہے : ولو علم اللہ فیہم خیراً لأسمعہم، ولو أسمعہم لتولّوا وھم معرضون (23 : یعنی اگر اللہ جانتا ان میں کچھ بھلائی تو وہ ضرور ان کو سنا دیتا ، اور اگر وہ اب اُن کو سنا دے تو وہ ضرور بھاگیں گے منہ پھیر کر : قرآن کی اس آیت میں جو بات اللہ کی نسبت سے کہی گئی ہے ، وہ دراصل انسان کی نسبت سے ہے۔ اس آیت میں ہدایت ملنے یا نہ ملنے کا اصول بتایا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہدایت عملی طور پر ہر ایک کے سامنے آتی ہے، لیکن اس کی قبولیت کا تعلق ہمیشہ طلبِ حق سے ہوتا ہے۔ جو شخص پہلے سے طالب (seeker) ہو ، وہ فورا ہدایت کو پہچان لیتا ہے اور اس کو دل سے قبول کر لیتا ہے۔
لیکن جس آدمی کے اندر طلب کا گہرا جذبہ موجود نہ ہو ، وہ ہدایت کو پہچاننے میںناکام رہے گا ، اس کا کنفیوژن اس کے لیے ہدایت کو قبول کرنے میں مانع بن جائے گا۔
ہدایت کا سارا معاملہ سچی طلب پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی طلب موجود نہ ہو تو ہدایت اس کے سامنے آئے گی ، لیکن کسی نہ کسی عذر کی بنا پر وہ اس کو قبول کرنے سے محروم رہے گا۔ طلب اگر چہ ایک فطری چیز ہے ، لیکن آدمی ایسا کرتا ہے کہ وہ حق کے سوا دوسری چیزوں کو اہمیت دینے لگتا ہے ، مثلاً ذاتی یا قومی مصلحتوں کو ۔ یہ مزاج آدمی کے اوپر اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہ حق کو بے آمیز صورت میں دیکھ نہیں پاتا۔
یہ صورت حال اس کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیتی ہے ، اور کنفیوژن بلا شبہ قبولِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حق کا سچا طالب وہ ہے جو اس سے پہلے غیر حق کی نفی کر چکا ہو۔ یہی انسان حق کا طالب ہے اور ایسے ہی انسان کو خدا کی طرف سے حق کی توفیق ملتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues