Al-Risala · July 2011 · page 18

اسلامی رومانیت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸

اسلامی رومانیت

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے کیس کو اگر یک لفظ میں بتانا ہو تو وہ غالباً اسلامی رومانیت (Islamic romanticism) ہوگا۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اسی اسلامی رومانیت میں جی رہے ہیں۔ ماضی میں گزری ہوئی مسلم شخصیتوں کی کہانیاں، کشف و کرامات کے قصے، جہاد کے واقعات، مفروضہ معیاری نظام، وغیرہ۔ اُنھیں چیزوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن بنایا ہے۔ ان کی ہر مجلس میں اس طرح کی باتوں کا چرچا ہوتا ہے۔ ہر مسلمان یہ سوچتا ہے کہ قدیم پر فخر سیاسی دور کس طرح دوبارہ واپس لایا جائے۔

اس اسلامی رومانیت کی سب سے زیادہ تباہ کن مثال سیاسی رومانیت ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے بہت سی سیاسی لڑائیاں چھیڑیں۔ یہ سیاسی لڑائیاں مختلف ملکوں میں وہاں کے اقتدار کے خلاف لڑی گئیں۔ ان لڑائیوں کے دوران مسلمانوں میں عجیب و غریب قسم کی پراسرار کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔ ہر لڑائی میں پراسرار طور پر فتح کی داستانیں پھیلائی جاتی رہیں، مگر آخر میں معلوم ہوا کہ ہر لڑائی ایک طرفہ طور پر صرف مسلمانوں کی تباہی پر ختم ہونے والی تھی۔ یہ اسلامی رومانیت آج بھی مختلف صورتوں میں جاری ہے، مسلم اکثریت والے ملکوں میں بھی اور اُن ملکوں میں بھی جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں۔ اسی رومانیت کو قرآن میں امانی (78: 2) کہا گیا ہے، یعنی خوش فہمیاں (wishful thinking)۔

موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی نہ کسی قسم کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ خوش فہمی کے اس مزاج کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اُن کے اندر حقیقت پسندانہ سوچ ختم ہو گئی ہے، وہ مفروضات میں جیتے ہیں، وہ تصوراتی دنیا میں اپنی خیالی دنیا تعمیر کرتے رہتے ہیں، وہ توہماتی عقائد کو اپنا سہارا بنائے ہوئے ہیں۔ یہ غیر حقیقت پسندانہ مزاج دنیا کے اعتبار سے بھی ہلاکتت خیز ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی ہلاک خیز۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page