Al-Risala · July 2011 · page 21

عظمتِ خویش کا نفرنس

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۱

عظمتِ خویش کا نفرنس

آج کل ’’عظمت‘‘ کے نام پر ہر جگہ شان دار کانفرنس ہو رہی ہیں۔ عظمتِ اسلام کا نفرنس، عظمتِ قرآن کا نفرنس، عظمتِ رسول کا نفرنس، عظمتِ صحابہ کا نفرنس، وغیرہ۔ عظمت کے نام پر آج کل اس قسم کی کانفرنسوں کی بہت زیادہ دھوم ہے۔ ان مختلف کانفرنسوں کا اگر ایک مشترک نام دینا ہو تو وہ صرف ایک ہوگا، اور وہ ہے عظمتِ خویش کا نفرنس۔ اس قسم کی تمام کانفرنسیں دراصل دین کے نام پر اپنے دنیوی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ عین وہی برائی ہے جس سے یہود کو ان الفاظ میں منع کیا گیا تھا: ولا تشتروا باياتی ثمناً قليلاً (2:41)۔

دورِ زوال میں یہود کا یہ حال ہو گیا تھا کہ وہ دین کے نام پر دنیا حاصل کرنے لگے۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، آج یہی حال موجودہ مسلمانوں کا ہو چکا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کے یہاں دین کے نام پر بڑے بڑے نمائشی کام ہو رہے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا نشانہ صرف یہ ہوتا ہے کہ دین کے نام پر دنیوی مقصد کو حاصل کیا جائے۔ مثلاً دولت، شہرت، عزت، عہدہ، اقتدار، وغیرہ۔ حدیث میں آیا ہے کہ قدیم اہلِ کتاب 72 فرقوں میں بٹ گئے اور امتِ مسلمہ 73 فرقوں میں بٹ جائے گی (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 4597)۔ اس روایت میں، 72 فرقہ اور 73 فرقہ کا لفظ علامتی ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ قدیم اہلِ کتاب میں 72 درجے کا بگاڑ آیا تھا اور امتِ مسلمہ میں 73 درجے کا بگاڑ آئے گا۔ دونوں کے درمیان اس فرق کا سبب زمانی ہے۔ قدیم اہلِ کتاب کا زمانہ دورِ ترقی کے پہلے کا زمانہ ہے۔ اس بنا پر اُن کے زمانے میں بگاڑ کے اسباب بہت محدود تھے۔ امتِ مسلمہ کا زمانہ ممتد (extend) ہو کر دورِ ترقی تک پہنچ جائے گا۔ اس بنا پر اُس کے لیے بگاڑ کے اسباب بھی بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ مثلاً قدیم اہلِ کتاب اسٹیج کی دھوم سے نا آشنا تھے۔ اب امتِ مسلمہ کے افراد کے لیے ممکن ہو گیا ہے کہ وہ دین کے نام پر اسٹیج کی دھوم مچائیں اور اُس کے بڑے بڑے دنیوی فائدے حاصل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues

Printed page