Probably there is a God.
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۲۴
ہمیشہ انسان تخلیق میں خالق کو دیکھتا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں نیچر کے بارے میں سائنس کی دریافتوں نے تعارف کے اس دائرے کو ہزاروں گنا زیادہ حد تک بڑھادیا ہے۔ یہاں اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس بنیادی پہلو کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے، ورنہ اندیشہ ہے کہ خدا کے بارے میں انسان کا مطالعہ اس کو یقین کے بجائے کنفیوژن تک پہنچادے، وہ خدا کی طرف سفر کرتے ہوئے کسی غیر خدا کی منزل تک پہنچ جائے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کے حوالے سے خدا کے وجود (existence of God) کو ثابت کرنے کے لیے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مثلاً:
Nature and Science Speaks about God The Evidence of God in an Expanding Universe الله يتجلى في عصر العلم (انگریزی سے ترجمہ)
مگر سائنس کے بارے میں یہ بات متفق علیہ ہے کہ سائنس کامل علم کا نام نہیں۔ سائنس اپنی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ اس حقیقت کو جے این سلیون (JN Sullivan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: Science gives us but a partial knowledge of reality. حقیقت یہ ہے کہ خدا کی دریافت کا سفر بنیادی طور پر دومرحلوں میں طے ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ وہ ہے جو عقلی غور وفکر اور سائنسی معلومات کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یہ ذریعہ بلاشبہ نہایت اعلیٰ ذریعہ ہے۔ لیکن وہ اپنے آخری درجے میں بھی ایک مسافر حق کو جہاں پہنچاتا ہے، وہ صرف احتمال (probability) ہے، یعنی— امکانی طور پر یہاں ایک خدا کا وجود ہے:
Probably there is a God.
یہاں احتمال (probability) سے مراد سادہ طور پر صرف احتمال نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد اعلیٰ عقلی احتمال ہے۔ اعلیٰ عقلی احتمال کو دوسرے لفظوں میں شبہہ یقین (semi-conviction) کہا جاسکتا ہے۔ احتمال کا یہ مقام وہ مقام ہے جہاں آدمی شک (doubt) کے لمبے راستے کو طے کر کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues