ذہنی تناؤ کا مسئلہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۱، صفحہ ۳۰
ذہنی تناؤ کا مسئلہ
ایک خبر کے مطابق، ذہنی تناؤ (mental tension) کا علاج شاک تھیرپی کے ذریعے معلوم کیا گیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ہلکی برقی رو خارج کرنے والا ایک آلہ سونے کے دوران استعمال کیا جائے تو اس سے ذہنی تناؤ اور مایوسی کی کیفیت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ سیل فون (cell phone) کے سائز کا یہ آلہ سوتے وقت ماتھے سے لگا دیا جاتا ہے۔ اس میں پیدا ہونے والی برقی رو اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ اس سے نیند خراب نہیں ہوتی ہے۔ رات بھر خارج ہونے والی برقی روانسان کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے منفی کیفیات اور ذہنی تناؤ سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔ (پندرہ روزہ ’مستقبل‘، نئی دہلی، دسمبر 2010، صفحہ 6)
مگر یہ صحیح نہیں۔ ذہنی تناؤ ایک فکری مسئلہ ہے اور فکری مسئلہ کو صرف فکری تدبیر کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، کوئی ٹکنکل تدبیر اس معاملے میں کار آمد نہیں ہو سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی تناؤ کوئی واقعی مسئلہ نہیں، وہ صرف غیر حقیقت پسندانہ سوچ کا نتیجہ ہے۔ اپنی سوچ کو درست کر لیجیے، اس کے بعد آپ کو ذہنی تناؤ کی شکایت نہ ہوگی۔
سوچ کی درستگی کیا ہے۔ وہ ہے اپنی سوچ کو عالمِ خارجی کے مطابق بنانا۔ جس صورت حال کو آپ بدل نہیں سکتے، اس کو خوش دلی کے ساتھ قبول کر لینا، اس حقیقت کو مان لینا کہ آپ دنیا کو بدل نہیں سکتے، اس لیے آپ کو چاہیے کہ خود اپنے آپ کو بدل لیں۔
حقیقت پسندی یہ ہے کہ آپ اپنی ذات کے معاملے میں معیار پسند (idealist) بنیں، اور خارجی دنیا کے معاملے میں آپ پریکٹیکل (practical) بن جائیں۔ یہی دانش مندی (wisdom) کا تقاضا ہے۔ ذہنی تناؤ دراصل یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی معیار اور خارجی واقعہ کے درمیان مفاہمت (adjustment) دریافت نہ کر سکے— ذہنی تناؤ کا حل صرف فکری تھرپی (intellecutal therapy) کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ ٹیکنکل تھرپی (technical therapy) کے ذریعے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2011 All issues