Al-Risala · August 2011 · page 3

تاریخ دعوت—ایک جائزہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۱، صفحہ ۳

ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس ، انسان جب اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو سماج میں وہ ماحول بن جاتا ہے جس کو قرآن میں فساد (85:7) کہا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی بھی کام کو خوش گوار طور پر انجام دینا ناممکن ہو جاتا ہے۔

قرآن کی سورہ النساء میں کہا گیا ہے: الصلح خیر (128: 4) یعنی صلح بہتر ہے۔ صلح سے مراد امن اور مسالمت (conciliation) ہے، یعنی نزاع (controversy) کے وقت ٹکراؤ کا طریقہ اختیار نہ کرنا، اس کے بجائے وہ طریقہ اختیار کرنا جس میں ٹکراؤ (conflict) کے بغیر نزاع ختم ہو جائے اور دوبارہ معتدل فضا میں کام ہونے لگے۔

زندگی میں نزاع کیوں پیدا ہوتی ہے۔ اس کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ کوئی شخص آپ کا دشمن بن گیا ہے، وہ آپ کے خلاف سازش کر رہا ہے۔ اس صورت حال کا اصل سبب خدا کا قائم کردہ تخلیقی نظام ہے۔ انسان کے پیدا کرنے والے نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ ہر انسان آزاد ہے کہ وہ جس طرح چاہے، اپنی آزادی کو استعمال کرے۔ اس صورت حال سے، مسابقت (competition) اور چیلنج کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اس چیلنج کو اگر منفی معنی میں لیں تو وہ نزاع ہے اور اگر اُس کو مثبت معنی میں لیں تو وہ ترقی کے لیے محرک (incentive) بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کو وہ انسانی معاشرہ پسند ہے جس میں امن کا ماحول پایا جاتا ہو۔ امن خدا کے نقشۂ حیات کے مطابق ہے اور تشدد خدا کے نقشۂ حیات کے خلاف ۔ قرآن کی سورہ یونس میں ارشاد ہوا ہے: والله يدعو إلى دار السلام (25: 10) یعنی اللہ سلامتی کے گھر کی طرف پکارتا ہے: And God calls to the home of peace. قرآن کی اس آیت میں ”دار السلام“ سے مراد اصلاً آخرت کی جنت ہے۔ جنت کامل معنوں میں امن کا مقام ہے۔ یہی پر امن زندگی موجودہ دنیا میں بھی انسان سے مطلوب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ موجودہ دنیا میں پر امن زندگی کا ثبوت دیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں کامل امن کی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2011 All issues

Printed page