Al-Risala · January 2011 · page 36

تیسرا آپشن نہیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۶

تیسرا آپشن نہیں

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کو میں سچا مذہب مانتا ہوں، لیکن میرے کچھ شبہات ہیں۔ مثلاً معجزہ کی عقلی توجیہہ میری سمجھ میں نہیں آتی۔ اسی طرح پانچ وقت کی نماز کا قرآن میں مجھے ثبوت نہیں ملتا، وغیرہ۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اپنے ان خیالات کو دوسروں سے بیان کرتے رہتے ہیں۔

میں نے اُن سے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میرا یہ مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے کو ابھی صرف ایک اسٹوڈنٹ سمجھئے۔ آپ یہ سمجھیں کہ آپ ایک متلاشی (seeker) ہیں اور باتوں کو گہرائی کے ساتھ جاننے کے لیے اسٹڈی کر رہے ہیں۔ اس بارے میں جب تک آپ کی رسرچ مسلمہ علمی معیار پر مکمل نہ ہو جائے، آپ ہرگز ان باتوں کی چرچا دوسروں سے نہ کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کا کیس فتنہ پردازی کا کیس بن جائے گا، نہ کہ تلاش حق کا کیس، اور فتنہ پردازی بلاشبہ اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ کوئی سنجیدہ آدمی اُس کا تحمل نہیں کر سکتا۔

میں نے کہا کہ متلاشی (seeker) بننا، ایک اعلیٰ انسانی صفت ہے۔ سچائی کا متلاشی بننا اور اس کے لیے تحقیق کرنا، یہ بلاشبہ ہر انسان کا حق ہے۔ لیکن یہ کسی کا حق نہیں کہ وہ گہرے مطالعے کے بغیر بڑی بڑی باتیں بولنے لگے۔ حق کی تلاش اگر علمی دیانت داری ہے، تو تلاش کا حق ادا کیے بغیر اُس پر غیرذمے دارانہ کلام کرنا، علمی بددیانتی (intellectual dishonesty) کی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے۔ یا تو آپ خاموش رہیں، اپنی بات کو اپنے دل میں رکھیں، دوسروں سے نہ کہیں۔ یا آپ اتنا زیادہ مطالعہ اور رسرچ کریں کہ خالص علمی اور سائنسی معیار پر ایک بیان (statement) دینے کے قابل ہو جائیں۔ اس وقت آپ جو کر رہے ہیں، وہ تھرڈ آپشن (third option) ہے، اور کسی کے لیے تھرڈ آپشن لینا، دینی اعتبار سے ناجائز ہے اور علمی اعتبار سے غیر معقول۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2011 All issues

Printed page