Al-Risala · September 2011 · page 31

کیا قیامت قریب ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۱

کیا قیامت قریب ہے

دسمبر 2009 میں ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن (Copenhagen) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ یہ کانفرنس صنعتی سرگرمیوں کے ذریعے بڑھتے ہوئے کاربن ایمیشن (carbon emission) کے موضوع پر تھی۔ اس میں دنیا بھر کے سائنس داں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر سائنس دانوں نے یہ وارننگ دی تھی کہ کاربن ایمیشن پر روک لگانا ضروری ہے۔ کیوں کہ فضائی آلودگی (air pollution) کی بنا پر دنیا اب ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں قیامت کے آنے میں اب صرف دو ڈگری کا فاصلہ ہے:

Two Degrees to Doomsday (The Times of India, Dec. 5, 2009)

اس کے بعد سے سائنٹفک جنرل اور میڈیا میں برابر ایسی رپورٹیں چھپ رہی ہیں جو سنگین الارم کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کلائمیٹ (climate) کے بارے میں ان رپورٹوں میں جو بتایا جارہا ہے، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب خطرے میں صرف اضافہ ہو رہا ہے، اس میں کمی کے کوئی آثار نہیں۔ مثال کے طور پر سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ منطقہ قطب شمالی (Arctic region) میں بھاری مقدار میں جو برف ہے، وہ گلوبل وارمنگ کی بنا پر مسلسل تیزی سے پگھل رہی ہے۔ اندیشہ ہے کہ 20 سال کے اندر یہ ساری برف پگھل جائے۔ اس کے بعد بہت بڑی تباہی متوقع ہے۔ کیوں کہ قطب شمالی کی اس برف کے نیچے بہت بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ (carbon dioxide) اور میتھین (methane) گیس کے ذخیرے موجود ہیں۔

برف کے یہ پہاڑ اگر گلوبل وارمنگ (global warming) سے پگھل جائیں تو ایک طرف یہ ہوگا کہ یہ پگھلا ہوا پانی سمندر میں شامل ہو جائے گا اور سمندر کی سطح خطرناک حد تک اونچی ہو جائے گی۔ اور دوسری طرف یہ ہوگا کہ برف کے نیچے بڑی مقدار میں دبی ہوئی خطرناک گیس باہر آجائے گی اور فضائی آلودگی ہلاکت خیز حد تک بڑھ جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2011 All issues

Printed page