پیغمبر ایک تاریخی استثنا
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۱، صفحہ ۱۵
حضرت موسیٰ کی نصرت قوت عصا کے ذریعے کی گئی، تو حضرت مسیح کی نصرت قوت شفا کے ذریعے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے نبیوں کے درمیان ایک واضح فرق یہ ہے کہ دوسرے تمام پیغمبر روایتی دور میں آئے اور روایتی دور تاریخ ہی میں ان کا پیغمبرانہ رول ختم ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ ہے کہ آپ تاریخ کے روایتی دور میں آئے، لیکن ترسیعی معنوں میں آپ کی نبوت تاریخ کے سائنسی دور تک جاری رہی۔ اس بنا پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو عطیات برائے نصرت دیے گئے، وہ پچھلے ادوار کی نسبت سے مختلف تھے۔
رول کے اسی فرق کی بنا پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیا کے درمیان دلائل کی نسبت سے فرق پایا جاتا ہے، یعنی پچھلے انبیا کے یہاں اگر روایتی نوعیت کے دلائل ہیں تو پیغمبر اسلام کے یہاں سائنسی نوعیت کے دلائل ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب تاریخ کے روایتی دور میں آئے ۔ اس کے مقابلے میں پیغمبر اسلام، تاریخ کے اُس دور میں آئے جب کہ سائنسی دور شروع ہونے والا تھا۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ دوسرے پیغمبروں کو حسی معجزے دیے گئے ۔ یہ معجزے صرف پیغمبر کے معاصر (contemporary) لوگوں کے لیے دلیل تھے ۔ ان معجزوں کی استدلالی حیثیت مشاہدے پر مبنی تھی۔ پیغمبر کے بعد وہ معجزہ ختم ہو گیا، اس لیے وہ بعد کی نسلوں کے لیے دلیل بھی نہ رہا۔ معجزے کا دلیل ہونا اُن معاصر لوگوں کے لیے ہے جو اس کو دیکھیں، وہ اُن غیر معاصر لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جو اس کو صرف سنیں یا پڑھیں، مگر انھوں نے اس کو اپنی آنکھ سے نہ دیکھا ہو۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان اگر چہ درجے کے اعتبار سے فرق نہ تھا، لیکن پیغمبر اسلام ایک ایسے دور تاریخ میں آئے، جب کہ آپ کی دعوت اور آپ کی زندگی سے متعلق ہر چیز محفوظ (preserve) رہ سکتی تھی ۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ آپ کی نبوت ایک مسلسل نبوت بن گئی۔ ہر پیغمبر کو خدا کی طرف سے پیغمبری کے ساتھ دلیل بھی دی جاتی تھی جس کو قرآن میں ’’برہان‘‘ کہا گیا ہے۔ یہ دلیل پچھلے پیغمبروں کے لیے حسی معجزہ (physical miracle)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2011 All issues