Al-Risala · November 2011 · page 9

لسانِ قوم میں دعوت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۹

مدلل کیا جائے ۔ یہ ضرورت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے: عن قریب مستقبل میں ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھلائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی۔ یہاں تک کہ اُن پر یہ پوری طرح کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے (53 :41)۔ آفاق اور انفس میں جن نشانیوں کے ظہور کی پیشین گوئی کی گئی تھی، وہ واضح طور پر موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آ چکی ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا تھا کہ حضرت موسیٰ کے معاصر فرعون کا جسم خدا نے محفوظ کر دیا ہے، اور وہ بعد کے زمانے میں ظاہر ہوگا (10: 92)۔ اس آیت کے نزول کے بعد تقریبا ایک ہزار سال تک یہ واقعہ لوگوں کے لیے غیر معلوم رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار سائنسی ذرائع سے یہ ممکن ہوا کہ فرعون کے اس جسم کو دریافت کیا جاسکے اور اس کی معاصر تاریخ کا تعین کیا جاسکے۔ اس طرح کے بہت سے نئے حقائق ہیں، جو قرآن کی صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ دورِ جدید کے تجدیدی کام کا ایک حصہ ہے، یعنی ان نئی دریافتوں کو قرآن کی صداقت کی حیثیت سے پیش کرنا۔

لسانِ قوم میں دعوت

قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسانه قومه (14: 4) یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔

قرآن کی اس آیت میں ’لسان‘ سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، بلکہ اُس میں کلام کا اسلوب (idiom) بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا۔ یہ آپ کے لیے قوم کی زبان (لسان قوم) میں بولنا تھا۔ حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت (76 :6) سے استدلال کرتے ہوئے مدعو کے سامنے اپنے بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل (metaphor) کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page