Al-Risala · November 2011 · page 35

گھر آگے، میں پیچھے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۵

گھر آگے، میں پیچھے

ایک صاحب کے پاس پہلے رہنے کے لیے چھوٹا گھر تھا۔ بعد کو ان کے حالات بہتر ہوئے اور انھوں نے شہر میں ایک بڑا گھر خرید لیا۔ یہ گھر سڑک کے کنارے تھا اور اپنی تعمیر کے اعتبار سے شان دار دکھائی دیتا تھا۔ اُسی زمانے میں ایک پروگرام کے تحت میں اُس شہر میں گیا۔ مذکورہ صاحب مجھے اپنے گھر لے گئے ۔ گھر کے اندر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب سے میں نے یہ بڑا گھر لیا ہے، یہ گھر میرے آگے چلتا ہے اور میں اِس کے پیچھے چلتا ہوں۔ اب جو شخص بھی یہاں آتا ہے، وہ صرف گھر کے بارے میں بات کرتا رہتا ہے۔ اب آنے والا کوئی شخص مجھ سے کسی اور موضوع پر بات نہیں کرتا۔ یہ صرف ایک گھر کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ اس قسم کے ہر معاملے کی بات ہے۔ کوئی مشن، جب معمولی مکان میں ہو تو اُس وقت لوگ صرف مشن کی بات کرتے ہیں اور جب اس کی شان دار بلڈنگ بن جائے تو بلڈنگ اولین (primary) اہمیت حاصل کرلیتی ہے اور مشن کی حیثیت ثانوی (secondary) ہوکر رہ جاتی ہے۔ ایک سادہ مسجد ہو تو لوگ اس کے اندر متقیانہ نماز پڑھتے ہیں، اور جب ایک شاندار قسم کی ائر کنڈیشنڈ مسجد بن جائے تو وہاں تقویٰ کا ماحول ختم ہو جاتا ہے۔ اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال نے بجاطور پر کہا تھا:

میں ناخوش و بے زار ہوں مرمر کی سلوں سے میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو مجھے ایک مدرسے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ پہلے یہ مدرسہ ایک معمولی عمارت میں قائم تھا۔ اب اس کے رقبے میں کافی توسیع ہوئی ہے اور وہاں بڑی بڑی پختہ عمارتیں بن گئی ہیں۔ میں نے وہاں کے ایک سینئر استاذ سے کہا کہ آپ کے مدرسے نے ماشاء اللہ کافی ترقی کی ہے۔ انھوں نے جواب دیا: ہاں، مادی ترقی تو ہوئی ہے، لیکن پہلے یہاں جو معنویت نظر آتی ہے، اب اس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ یہی وجہ کہ اسلام میں سادگی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ سادگی اور اسلام دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں سادگی ہے، وہاں اسلام ہے اور جہاں سادگی نہیں، وہاں اسلام بھی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2011 All issues

Printed page