Al-Risala · December 2011 · page 7

جنت کا تصور

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۷

جنت کا تصور

توفيق الحکيم (وفات: 1987) مصر کے معروف ادیب تھے۔ خود اپنے بیان کے مطابق، وہ فکری تضاد میں مبتلا تھے۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ: إني أعيش في الظاهر كما يعيش الناس في هذه البلاد. أما في الباطن، فما زالت الهتي وعقائدي ومثلي العليا. كل آلامي مرجعها هذا التناقض بين حياتي الظاهرة وحياتي الباطنة (بظاہر میں ایسی ہی زندگی گزار رہا ہوں جیسا کہ عام لوگ ان شہروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن میرے باطن میں میرے کچھ معبود و عقائد اور بلند آئیڈیلز ہیں۔ میرے سارے کرب کا سبب میری ظاہری اور باطنی زندگی کا یہی تناقض ہے)۔ توفیق الحکیم نے لکھا ہے کہ: إني لا أستطيع أن أعيش في جنة لا أطلع فيها (”أنا“ لعباس محمود العقاد، صفحہ 126) یعنی اگر جنت میں مجھ کو اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کا موقع نہ ملا، تو ایسی جنت میں قیام میرے لیے ناممکن ہو جائے گا۔

توفیق الحکیم اور اس طرح کے دوسرے لوگوں کے ذہین میں جنت کا جو تصور ہے، وہ یہ کہ جنت صرف ایک عیش کدہ ہے۔ ذہن انسان کو اس قسم کا تصور زیادہ اپیل نہیں کرتا، کیوں کہ جسمانی راحت کے علاوہ، انسان کی ایک اور ضرورت ہے، اور وہ عقلی تسکین ہے۔ ہمارے علماء اور واعظین عام طور پر جنت کا جو تصور دیتے ہیں، اُس میں یہ ہوتا ہے کہ جنت میں آرام وراحت کا سامان تو وافر مقدار میں ہوگا، لیکن وہاں عقل و دانش کی تسکین کا کوئی سامان نہیں ہوگا۔ جدید ذہن کو جنت کا یہ تصور اپیل نہیں کرتا۔ وہ اس کو اپنی حقیقی طلب سے کم تر سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں آرام وراحت کا سامان تو صرف اہل جنت کی ضیافت کے لیے ہوگا۔ اہل جنت کا اصل مشغلہ تو یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ (27 :31) کو ان فولڈ کرکے ایک برتر تہذیب (super civilization) کو وجود میں لائیں گے۔ یہ ایک ربانی تہذیب (divine civilization) یہ ایک پر مسرت ذہنی اور فکری سرگرمی (intellectual activities) کا دور ہوگا جو ابدی طور پر جاری رہے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page