Al-Risala · December 2011 · page 22

مذہب اور عقلیات

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

لائبریریوں سے کتابیں حاصل کیں۔ اُس زمانے میں میری دیوانگی کا عالم یہ تھا کہ میں ہر وقت پڑھتا رہتا تھا یہاں تک کہ راستہ چلتے ہوئے کتاب میرے ہاتھ میں ہوتی تھی اور میں اس کو کھول کر پڑھتا رہتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات: 1985) اکثر یہ کہتی تھیں کہ یہ شخص کسی نہ کسی دن سڑک پر چلتے ہوئے کسی گاڑی سے ٹکرا جائے گا اور سڑک ہی پر اس کی موت واقع ہو جائے گی۔ میرے اس دیوانہ وار مطالعے کی کسی نے بھی حوصلہ افزائی نہیں کی، لیکن میں ہر چیز سے بے پروا ہو کر اپنے کام میں لگا رہا۔ آزادی ہند (1947) کے بارے میں ایک کتاب ہے جو دو مصنفین نے مشترک طور پر لکھی تھی ۔ ان میں سے ایک شخص برطانیہ کا تھا، اور دوسرا فرانس کا۔ اس کتاب کا نام ہے۔ آدھی رات کی آزادی (Freedom at Midnight) ۔

اپنی اس کتاب کی تیاری میں مذکورہ دونوں مصنفین نے بے شمار چیزوں کا مطالعہ کیا۔ کتاب کے چھپنے کے بعد ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا :

We lived like hermits, and we produced ‘Freedom at Midnight’ اسلام پر عصری اسلوب (modern idiom) میں کتاب تیار کرنے کے لیے میرا بھی یہی حال ہوا۔ مذکورہ مثال کو لیتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ ۔ میں نے رہبان کی مانند زندگی گزاری، اور میں نے خدا کے موضوع پر اپنی کتاب تیار کی :

I lived like hermit, and I produced my book on God. جیسا کہ عرض کیا گیا، موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے فطرت کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں، وہ گویا کہ خدائی نشانیاں ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ آفاق اور انفس میں آیات الہی کے ظہور کے ہم معنی ہیں (41 : 53)۔ اس سلسلے میں اپنے مطالعے کے نتائج کو میں نے اپنی مختلف کتابوں میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں مختصر طور پر چند مثالیں درج کی جاتی ہیں 1 - قدیم فلاسفہ اپنے فلسفیانہ فریم ورک کی بنا پر شخصی خدا (personal God) کے طور پر خدا کا ادراک نہیں کرپاتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے خدا کو غیر شخصی خدا (impersonal God) بتایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page