Al-Risala · December 2011 · page 32

قرآنی ماڈل

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۲

خداوند عالم کا تخلیقی پلان اور پیراڈائز دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے قرآن کے مطابق ، پیراڈائز کے معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خداوند عالم کے تخلیقی پلان کی روشنی میں سمجھا جائے۔

قرآن ، خدا کی کتاب ہے۔ وہ پوری طرح اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔ قرآن کے مطابق ، خدا نے انسان کو بنایا اور اس کو موجودہ زمین پر آباد کیا۔ یہ آبادکاری بطور امتحان تھی ، نہ کہ بطور انعام ، یعنی یہ آبادکاری اس لیے تھی کہ دنیا کی عارضی زندگی میں انسان اپنے آپ کو پیراڈائز کا اہل ثابت کرے اور پھر موت کے بعد آنے والی اگلی دنیا میں اس کو اس کے عمل کے مطابق ، پیراڈائز میں بسایا جائے۔ اس اعتبار سے موجودہ دنیا گویا کہ ایک انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ یہاں آدمی کو مختلف قسم کے احوال میں رکھ کر جانچا جا رہا ہے کہ کون اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے۔ جو لوگ اس جانچ میں پورے اتریں ، ان کو منتخب کر کے جنت کی ابدی دنیا میں داخل کر دیا جائے گا۔ اور جو لوگ اس جانچ میں ناکام ہو گئے ، اُن کو ابدی طور پر کائنات کے کوڑے خانے (جہنم) میں ڈال دیا جائے گا۔

قرآن کے مطابق ، یہ جنت ابدی ہوگی اور اسی کے ساتھ ایک معیاری اور آئیڈیل جنت۔ یہاں یہ ممکن ہوگا کہ انسان ہر قسم کے خوف اور ہر قسم کے حزن سے بچ کر زندگی گزارے۔ جنت کی یہ دنیا ہر قسم کے ناموافق حالات (disadvantages) اور ہر قسم کی محدودیت (limitations) سے خالی ہوگی۔ یہاں انسان وہ سب کچھ پالے گا جس کی تمنا وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔ جنت کی اس دنیا میں آدمی کی تمام خواہشیں (desires) پوری ہوں گی۔ یہاں اُس کو مکمل فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ موجودہ دنیا میں بھی اگر چہ تمام اچھی چیزیں موجود ہیں ، لیکن یہ دنیا ایک غیر معیاری دنیا (imperfect world) ہے ، جب کہ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے ایک معیاری دنیا (perfect world) ہوگی۔ جنت کی دنیا میں نہ شور ہوگا اور نہ کسی قسم کی کثافت۔ یہ دنیا ہر قسم کی منفی باتوں سے خالی ہوگی۔ موجودہ دنیا ایک ناقص دنیا ہے ، اور جنت ایک کامل دنیا ہوگی۔ اور کسی معاملے میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page