Al-Risala · December 2011 · page 34

اعتماد کی اہمیت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴

اعتماد کی اہمیت

سماجی زندگی میں اعتماد (trust) کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ یہ کسی آدمی کے لیے بہت بڑا سرمایہ (asset) ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں قابلِ اعتماد بن جائے۔ اس قسم کا اعتماد کسی انسان کو بہت دیر میں حاصل ہوتا ہے۔ لمبے تجربات کے بعد ہی کسی شخص کو یہ درجہ ملتا ہے کہ وہ لوگوں کی نظر میں ایک قابلِ اعتماد انسان بن سکے۔

کچھ لوگوں کا یہ مزاج ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسہ کمانا چاہتے ہیں، وہ جھوٹ بول کر لوگوں کا استحصال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ زندگی میں کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ بڑی کامیابی ہمیشہ سچائی کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ دھوکا ایک بار کام آ سکتا ہے، لیکن سچائی ہزار بار کام آتی ہے۔ دھوکے کی حد ہے، مگر سچائی کی کوئی حد نہیں۔

جو لوگ خوش نما باتیں کر کے پیسہ کمانا چاہتے ہیں، وہ بہت جلد لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو جاتے ہیں۔ آخر کار اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ لوگ اُن کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے، لوگ اُن سے معاملہ (dealing) کرنا چھوڑ دیتے ہیں، لوگوں کو ان کی باتوں پر یقین نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ چند بار کچھ حاصل کر لیتے ہیں، لیکن بہت جلد ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اُن سے کٹ جاتے ہیں۔ اس قسم کے انسانوں کے متعلق لوگوں کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ ان سے دور رہو۔

کامیابی کیا ہے۔ کامیابی ہمیشہ دوسروں کی قیمت پر ہوتی ہے۔ دوسروں سے فائدہ اٹھانے ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ لیکن دوسروں سے فائدہ اٹھانا، صرف اُس کے لیے ممکن ہوتا ہے جو خود بھی دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ دوسروں سے فائدہ لینا ہمیشہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ یہ ایک دو طرفہ (bilateral) معاملہ ہے۔ جو آدمی دوسروں کو کوئی حقیقی فائدہ نہ پہنچائے اور یک طرفہ طور پر (unilaterally) وہ خود دوسروں سے فائدہ لینا چاہے، اس کے لیے اس دنیا میں صرف یہ انجام مقدر ہے کہ وہ کبھی کامیابی اور ترقی حاصل نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2011 All issues

Printed page