تزکیہ اور محاسبہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۱۸
واحد ذریعہ پیغمبر (prophet) ہے۔ اس طرح وہ اپنے دل کی پوری آمادگی کے ساتھ پیغمبر کو اپنا رہنما بنا لیتا ہے۔ ان دریافتوں کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے اندر تواضع (modesty) پیدا ہوتی ہے۔ وہ خالق کی عظمتوں میں جینے لگتا ہے۔ خدا کا تخلیقی نظام اس کے لیے خدا کی مسلسل یاد کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ جنت اس کے لیے اس کے سب سے بڑے مطلوب کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ پیغمبر کو وہ اپنے رہبر کامل کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ یہی وہ تمام عارفانہ تجربات ہیں جن کے مجموعے کا نام تزکیہ ہے۔
تزکیہ اور محاسبہ
تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکی انسان بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل (process) آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے، موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگر اں بننا پڑتا ہے۔ جو آدمی تزکیہ کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول وعمل کی نگرانی کرتا رہے، وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔ خود احتسابی کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت (repentance) اور محاسبہ (introspection) کی صلاحیت پائی جائے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی صورتیں پیش آئیں، بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کر دیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہو جائے، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں۔
آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے، وہ ہر موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے، وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے ۔ یہی تزکیہ ہے۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکی شخصیت (purified personality) کا درجہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues