Al-Risala · February 2011 · page 22

تزکیہ کا ظاہری فارم

الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۲۲

ثبوت ہوگا کہ اس سے پہلے آدمی کے اندر تزکیہ کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ تزکیہ کے بغیر دعا نہیں، اور دعا کے بغیر تزکیہ نہیں۔

تزکیہ کا ظاہری فارم

تزکیہ کا کوئی ظاہری فارم نہیں۔ اگر تزکیہ کا ظاہری فارم ہو تو اس کو پورا کر کے آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لے گا کہ میں نے اپنا تزکیہ کر لیا۔ اس طرح اس کے اندر قناعت (contentment) کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ حالاں کہ اس معاملے میں قناعت کا مزاج تزکیہ کے لیے ایک قاتل جذبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر مسلسل طور پر عدم قناعت (discontent) کا احساس پایا جاتا ہو۔ عدم قناعت کا جذبہ تزکیہ کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کا باعث ہے، جب کہ قناعت کی نفسیات میں اس قسم کے تسلسل کا محرک ہی ختم ہو جاتا ہے۔

تزکیہ کا گہرا تعلق عبادات کے مقرر نظام سے ہے۔ تزکیہ اور اسلامی عبادات دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم اور ملزوم ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا تزکیہ مکمل ہو چکا ہے اور اب مجھے عبادات کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادات کی ظاہری ادائیگی سے اپنے آپ تزکیہ کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسا سمجھنا ایک غیر فطری بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عبادات روح تزکیہ کا خارجی ظہور ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، تزکیہ کا وسیلہ نہیں۔ اگر کسی شخص کے اندر تزکیہ کی روح حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ وہ خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

عبادت گزاری کو تزکیہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے سارا زور روح تزکیہ کے تحقق پر دینا چاہیے، نہ کہ صرف عبادات کے ظاہری فارم پر۔ یہ درست ہے کہ عبادات کے بغیر تزکیہ کا دعویٰ صرف ایک جھوٹا دعویٰ ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ عبادات کا ظاہری فارم آٹومیٹک طور پر تزکیہ کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues

Printed page