تزکیہ کی اصل محاسبہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۱، صفحہ ۳۴
خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ وہاں آئے۔ اُس وقت ان کی ملاقات اسماعیل کی بیوی سے ہوئی ۔ انھوں نے سخت حالات کی شکایات کی۔ حضرت ابراہیم اُن سے یہ کہہ کر چلے گئے کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دینا: غير عتبة بابك (اپنے گھر کی چوکھٹ کو بدل دو)۔ اس کے بعد اسماعیل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا اور ایک دوسری خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ پھر وہاں آئے۔ دوسری خاتون سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کوئی شکایت نہیں کی، بلکہ حالات پر شکر کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ اسماعیل آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دے دینا: ثبت عتبة بابك (یعنی اپنے گھر کی چوکھٹ کو باقی رکھو)۔ صحيح البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو صحرا میں بسادیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے سادہ ماحول میں ایک نئی نسل پیدا ہو جو توحید کے مشن کو لے کر اٹھے اور اس کو دنیا میں پھیلائے۔ حضرت ابراہیم کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ کام کے لیے جو افراد مطلوب ہیں، اُن کے اندر سب سے زیادہ یہ صفت ہونا چاہیے کہ وہ مثبت نفسیات میں جینے والے ہوں، وہ شکایت کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کس بات کی ہے، وہ یہ کہ آدمی مکمل طور پر اپنے آپ کو بے شکایت بنالے، شکایت کے اسباب ہوتے ہوئے وہ پوری طرح مثبت سوچ والا انسان بن جائے۔ منفی سوچ تزکیہ کی قاتل ہے، جب کہ مثبت سوچ تزکیہ کے لیے سب سے ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ منفی سوچ والا آدمی شیطان کا معمول (subject) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت میں جینے لگتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تزکیہ کا حصول فرشتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
تزکیہ کی اصل محاسبہ
حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا (مسند الفاروق 2/618) یعنی اپنا محاسبہ کر لو، اس سے پہلے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے۔ یہی محاسبہ تزکیہ کی اصل ہے۔ تزکیہ کسی تربیتی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2011 All issues